زہران ممدانی نے پاکستانی خاتون کو اپنی ٹیم کا سربراہ مقرر کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
زہران ممدانی نے پاکستانی خاتون کو اپنی ٹیم کا سربراہ مقرر کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 9 November, 2025 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی شہر نیویارک کے پہلے مسلم میئر زہران ممدانی نے پاکستانی نژاد ماہر قانون لینہ ملیحہ خان کو اپنی عبوری ٹیم کی شریک سربراہ مقرر کیا ہے۔34 سالہ زہران ممدانی یکم جنوری 2026 کو عہدہ سنبھالیں گے اور وہ نیویارک شہر کی تاریخ میں پہلے مسلمان اور جنوبی ایشیائی نژاد میئر ہوں گے۔نیویارک امریکہ کا سب سے بڑا شہر ہے جس کا سالانہ بجٹ تقریبا 116 ارب ڈالر ہے اور دنیا بھر میں اس کے انتظامی فیصلے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔36 سالہ لینہ ملیحہ خان، جو سابق امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی چیئرپرسن رہ چکی ہیں، 3 تجربہ کار نیویارک سٹی ہال حکام کے ساتھ اس عبوری ٹیم کی قیادت کریں گی۔
اپنے بیان میں لینہ خان نے کہا کہ نیویارک کے عوام نے واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایک ایسا شہر تعمیر کیا جائے جہاں محنت کش طبقہ بھی بآسانی زندگی گزار سکے۔انہوں نے کہا کہ زہران ممدانی کے ساتھ مل کر ایسی ٹیم تشکیل دینا ان کے لیے اعزاز ہے جو اس وژن کو حقیقت میں بدل سکے اور ڈیموکریٹک طرز حکمرانی کے لیے ایک نیا نمونہ قائم کرے۔لینہ خان نے صدر جو بائیڈن کے دور میں ایف ٹی سی کی سربراہی کے دوران اینٹی ٹرسٹ اور صارفین کے حقوق کے ایجنڈے میں نمایاں کردار ادا کیا۔انہوں نے بڑی کمپنیوں کے انضمام پر سخت نگرانی اور ایسے کاروباری حربوں کے خلاف کارروائی کی جو صارفین کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ان کی پالیسیوں کو ترقی پسند حلقوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی، تاہم بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے ایمازون اور گوگل کے خلاف ان کے جارحانہ مقف نے سیلیکن ویلی میں کچھ تنا بھی پیدا کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب پبلک سروس کمیشن کا میرٹ کے نظام میں اصلاحات کا اعلان پنجاب پبلک سروس کمیشن کا میرٹ کے نظام میں اصلاحات کا اعلان پنجاب کے اسکولوں میں 23دسمبر سے 11جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا این اے 96جڑانوالہ ضمنی انتخابات،پیپلز پارٹی کا ن لیگ کی حمایت کا اعلان پنجاب بھر میں دفعہ 144کے نفاذ میں 15نومبر تک توسیع طالبان کے اقتدار میں آنے سے پاکستان پر دہشت گردانہ حملے بڑھے،دفتر خارجہ وزیراعظم کے حکم پر وزارت عظمی کے عہدہ کیلئے مجوزہ استثنیٰ کی ترمیم واپس لے لی گئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔