ممدانی کی جیت اور وہ خوشی جس پر اعتراض ہوا ؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
ایک بات میں بالکل ہی نہیں سمجھ پایا کہ ظہران ممدانی کے مئیر نیویارک بننے پر بہت سے لوگوں کا خوش ہونا تو خیر ایک فطری اور قابل فہم بات ہے مگر اس خوشی پر معترض ہونے، تنقید کرنے یا طنزیہ تحریریں لکھنے کی کیا تک ہے؟ کم از کم میری تو سمجھ میں یہ بات بالکل نہیں آئی۔
سادہ سی بات ہے کہ ایک نوجوان نے اپنی ہمت، صلاحیت، ہنر، اچھی کمپین اور کمال انداز میں متنوع سیاسی پاکٹس کو اکٹھا کر ایک کرشمہ کر دکھایا۔ نیویارک جیسے اہم شہر کا وہ میئر بن گیا۔ ہر اعتبار سے حیران کن کامیابی ہے۔ اسے سراہنا چاہیے اور خوش بھی ہوا جا سکتا ہے، مگر اس پر تنقید کیوں؟ آئیے ناقدین کے اس پورے مقدمہ کا جائزہ لیتے ہیں۔
پاکستانی کیوں خوش ہوئے؟یہ سوال کئی جگہوں پر کیا جا رہا ہے کہ آپ پاکستانی کیوں اتنے خوش ہو رہے ہیں، دیوانے ہو رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
اس سوال کا جواب پانا کوئی مشکل کام ہے کیا؟نیویارک کا معرکہ جیتنے والے اس فاتح پر ایک نظر ڈالیں۔ 3،4 چیزیں واضح ہیں۔
مسلمان سیاستدان: پہلی یہ کہ وہ مسلمان ہے، ایسا مسلمان جس نے اپنی مذہبی شناخت کو چھپانے کے بجائے اسے اپنی قوت بنایا۔ تاریخ میں پہلی بار نیویارک جیسے شہر کا میئرایک مسلمان بنا ہے، یہ کوئی کم یا معمولی بات ہے؟ کیا یہ ہم پاکستانی مسلمانوں کو اچھی نہیں لگنی چاہیے؟ یا اس پر ہم ماتم کریں، اپنے سروں میں خاک ڈالیں کہ ایک مسلمان کیسے نیویارک جیسے شہر کا میئر بن گیا؟
یہ بھی پڑھیں: میئر نیویارک ظہران ممدانی نے کیسے کرشمہ تخلیق کیا؟
پاکستانیوں کی خوشی ایک مسلمان کے مغربی معاشرے میں کامیابی پر ہے۔ جو لوگ اس پر طنز کرتے ہیں، وہ دراصل مسلم شعور کے اجتماعی احساس کو نہیں سمجھ پاتے۔ یہ مسلم شناخت کی کامیابی کی خوشی ہے۔ وہ شناخت جسے مغرب میں اکثر شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ نیویارک، لندن اور کئی دیگر یورپی شہروں میں مسلمان سیاستدان ابھر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مشکل حالات اور اسلامو فوبیا کے تعصب کے باوجود مسلمان نوجوان تعلیم، خدمت اور شرافت سے مقام حاصل کر رہے ہیں۔
نیویارک میں کامیابی محض ظہران ممدانی کی نہیں، ہر اُس مسلمان کی ہے جو مغرب میں اپنی محنت اور دیانت سے تعصب کے قلعے گرا رہا ہے۔
مڈل کلاس سیاسی ورکر: دوسرا یہ کہ وہ ایک مڈل کلاس نوجوان ہے۔ اس نے بڑے سرمایہ داروں کو شکست دی ہے۔ مقابلے میں اس سے زیادہ دولت مند، بے پناہ وسائل رکھنے والے امیدوار تھے۔
امریکا بلکہ دنیا کے امیر ترین افراد جیسے ایلون مسک کھل کر اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ ایک مڈل کلاس پولیٹکل ورکر ٹائپ شخص نےجس انداز میں اتنی بڑی کارپوریٹ ورلڈ کو عوامی قوت سےشکست دی، وہ قابل تعریف، قابل ستائش اور نہایت حوصلہ افزا ہے۔ اس جیت پر دنیا بھر میں مڈل کلاس، لوئر مڈل کلاس حلقے کو خوشی ہوئی، انہیں حوصلہ ہوا کہ ایلون مسک جیسے متکبر کھرب پتی کو بھی ہرایا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ اور الٹرا رائٹ ونگ کو ہرانا: ظہران ممدانی نے صدر ٹرمپ اور ان کے انتہائی الٹرا رائٹ ونگ حامیوں کی بہت طاقتور لابی کو ہرایا ہے ۔
ٹرمپ کا ایک خاص اسٹائل ہے، وہ اپنے مخالفوں کی کردار کشی کرتا ہے، انہیں کسی بری ناپسندیدہ علامت سے تشبیہہ دے کر ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ اس نے ہر ایک کے ساتھ کیا۔ ٹرمپ نے یہی ظہران ممدانی کے ساتھ بھی کیا۔ اسے کمیونسٹ کہہ کر امریکی عوام میں ڈس گریس کرنے کی کوشش کی۔ یہ کہا کہ ممدانی جیتا تو نیویارک کمیونسٹ ہوجائےگا وغیرہ۔
ٹرمپ کے رائٹ ونگ حامیوں نے ٹرمپ کے برعکس ظہران ممدانی کےخلاف اسلاموفوبیا کا ہتھیار استعمال کیا۔ جون میں جیسے ہی ممدانی نے ڈیموکریٹ پارٹی کی پرائمری جیتی، اگلے ایک ہفتے میں اس کے خلاف 7 ہزار کے قریب اسلاموفوبیا پر مبنی سوشل میڈیا پوسٹیں لگائی گئیں، ایک پوری کمپین چلی۔ ٹرمپ کے قریبی حلقے میں موجود اور ’میک امریکا گریٹ اگین‘ یعنی ماگا تحریک کی رہنما سارہ لومر نے باقاعدہ ٹوئٹ کیا کہ اگر ظہران ممدانی جیت گیا تو نیویارک کو ’نائن الیون 2‘ دیکھنے کو ملے گا۔ ایسی فیک تصاویر پوسٹ کی گئیں جس میں ممدانی کی لمبی ڈاڑھی تھی اور وہ کسی شدت پسند عسکریت پسند سے مشابہہ لگے۔
مزید پڑھیے: مولانا فضل الرحمان ٹھیک شاٹس نہیں کھیل پا رہے
خود ٹرمپ کے حمایت یافتہ میئر کے امیدوار اینڈریو کومو نے ٹی وی چینل پر بیٹھ کر یہ کہا کہ ممدانی تو شائدنائن الیون کے موقع پر خوشی سے جشن منانا چاہے گا۔ اگر ایک شخص نے اس پوری اسلاموفوبیا کمپین اور ان زہریلے حملے کرنےوالوں کو شکست دی ہے تو کیا اس پر خوشی ہونا فطری نہیں؟ کیا ایسا نہیں کہ ممدانی کو اسلامو فوبیا کا نشانہ اس کے مذہب کی بنیاد پر بنایا گیا؟ اگر ایسا ہے تو پھر اس کی جیت پر اس کے ہم مذہب کیوں نہ خوش ہوں؟
پرو اسرائیل صہیونی لابی کی شکست: ظہران ممدانی نے نیویارک کی بڑی کارپوریٹ ورلڈ، اپنے ری پبلکن مخالفوں، صدر ٹرمپ اور اس کے الٹرا رائٹ ونگ کے ساتھ ساتھ پوری صہیونی لابی کو شکست فاش دی ہے۔ یہ کوئی عام بات ہے؟
ممدانی کا فلسطین کے حوالے سے مؤقف واضح اور بڑا جرات مندانہ رہا۔ وہ اسرائیل کی ظالمانہ پالیسیوں کا اعلانیہ شدید ناقد رہا ہے۔ اس نے نتن ہاہو پر کڑی تنقید کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ وہ نیویارک کے میئر کے طور پر سٹی پولیس کو اسرائیلی وزیراعظم کی گرفتاری کا حکم دےد ے گا۔ اسی وجہ سے پرواسرائیل لابی نے ڈٹ کر اور کھل کر اس کی مخالفت کی۔
اسرائیل کے پورے میڈیا نے زوردار مہم چلائی اور نیویارک کے یہودی ووٹرزکو ممدانی کے خلاف ووٹ دینے کی ترغیب دی۔ الیکشن کے بعد زرا پچھلے 2،3 دنوں کا اسرائیلی میڈیا تو دیکھ لیں۔ کئی اخبارات انگریزی میں ہیں اور وہ آسانی سے پڑھے جا سکتے ہیں۔ دیکھیں کیا صف ماتم بچھی ہے وہاں؟
ظہران ممدانی کے حوالے سے پھیلائے گئے مغالطےپہلا مغالطہ : پاکستانیوں کا نیویارک سے کیا تعلق؟
ایک بات یہ بھی کہی گئی کہ ممدانی نیویارک سے جیتا ہے، ہم پاکستانی کیوں خوش ہیں، ہمارا نیویارک سے کیا تعلق؟
یہ وہی مخصوص ’علاقائی محدودیت‘ والا طعنہ ہے جس سے ہمارے نام نہاد سیکولر حضرات مسلم امہ کے اجتماعی احساس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب کوئی بھارتی نژاد ہندو کسی امریکی کمپنی کا سی ای او بنے تو یہی لوگ بھارتی دماغ کے گن گاتے ہیں اور پاکستان کو لعنت ملامت کرتے ہیں کہ دیکھو انڈین دماغوں نے دنیا بدل دی۔ تو پھر ایک مسلمان کے عالمی سطح پر ابھرنے پر پاکستانی کیوں خوش نہ ہوں؟
دوسرا مغالطہ: ’یہ کامیابی نیویارک کے نظام کی ہے‘اس سے کس نے انکار کیا کہ نیویارک، لندن یا بعض دیگر شہروں کے جمہوری نظام کی وجہ سے کئی مسلمان سیاستدان ابھر کر سامنے آئے ہیں، مگر یہ کہنا کہ اس میں ان کی مسلم شناخت یا اخلاقی استقامت کا کوئی کردار نہیں، ایک فکری ناانصافی ہے۔
مزید پڑھیں: پولیس افسران کی خودکشی: اسباب، محرکات، سدباب
ایک منصفانہ نظام میں بھی ہر شخص کامیاب نہیں ہوتا۔ کامیاب وہی ہوتا ہے جو اہلیت + نظریہ + حوصلہ + اصولی مزاحمت لے کر آئے۔ ظہران نے وہی کیا۔ لہٰذا یہ صرف نظام کی نہیں، انسانی صلاحیت کی جیت بھی ہے جس پران کے ہم مذہب، ہم خیال لوگوں کا فخر کرنا فطری ہے۔
تیسرا مغالطہ: یہ خوشی قومی خود فریبی ہےنہیں، یہ خود فریبی نہیں۔ ظہران ممدانی کی کامیابی پر پاکستانیوں کی خوشی کو ’خود فریبی‘ کہنا دراصل خود کم فہمی ہے۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی مسلمان جب انصاف، انسانیت، یا جرأت کا مظاہرہ کرتا ہے، تو امتِ مسلمہ خوش ہوتی ہے جیسے کوئی عرب یا ترک یا انڈونیشی سائنس دان عالمی ایوارڈ لے تو ہم کہتے ہیں: ’الحمدللہ ایک مسلمان نے یہ کیا‘۔
یہ اجتماعی شعور کا اظہار ہے، خود فریبی نہیں۔ خوشی کبھی سرحدوں میں قید نہیں ہوتی۔ ہم ظہران کی جیت کو ’اپنا فخر‘ اس لیے کہتے ہیں کہ مغرب میں اسلام کا نام دہشت گردی سے جوڑا گیا تھا، آج وہی نام عزت، انصاف اور اصلاح کا نشان بن رہا ہے۔
چوتھا مغالطہ: خوش ہونے کے بجائے اپنی اصلاح کریںیہ بات درست مگر نصف سچ ہے۔ اصلاح ضروری ہے مگر خوشی منانا جرم نہیں۔ قومیں دوسروں کی کامیابی سے سیکھتی بھی ہیں، خوش بھی ہوتی ہیں۔ یہ کوئی تضاد نہیں۔ قومیں صرف اندر نہیں دیکھتیں، باہر سے بھی سیکھتی ہیں۔
ظہران ممدانی کی کامیابی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر مغرب انصاف پر کھڑا ہو سکتا ہے تو ہم بھی کھڑے ہو سکتے ہیں۔
بشرط یہ کہ ہم خود پر یقین کریں، اپنی جڑوں کو شرمندگی نہیں، طاقت سمجھیں۔
5واں مغالطہ: پاکستانی غیر مسلم کیوں نہیں جیت سکتایہ بھی ایک مغالطہ ہی ہے۔ دونوں ممالک کے الگ حالات، دستور اور کلچر ہے۔ امریکا ایک سیکولر ملک ہے وہاں ریاستی سطح پر مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں، بلکہ امریکی حکومت مذہبی بنیاد پر قائم کسی اسکول یا ادارے تک کو فنڈز نہیں دے سکتی۔ ان کا اس حوالے سے اپنا آئین، کلچر اور حساب کتاب ہے۔ ہر معاشرہ اپنی تاریخی بنیاد اور سماجی اقدار کے مطابق ریاستی ڈھانچہ رکھتا ہے۔ موازنہ اخلاقی لحاظ سے ممکن ہے، مگر ’کاپی پیسٹ‘ ممکن نہیں۔
پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جہاں مذہب نہ صرف ریاست کا حصہ ہے بلکہ ملک میں کوئی بھی قانون قرآن وسنت کے منافی نہیں بن سکتا۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے،اس کی بنیاد ہی مذہبی شناخت پر ہے۔ یہاں غیر مسلم الیکشن جیت سکتا، وزیر بن سکتا ہے، اگر اسے عوام ووٹ دیں تو وہ میئر بھی بن سکتا ہے۔ کوئی پابندی نہیں۔ ہماری ہر وفاقی کابینہ میں غیر مسلم وزیر ہوا کرتے ہیں۔ پاکستان میں آئینی طور پر صرف 2 عہدے (صدر، وزیراعظم) مسلمانوں کے لیے مخصوص ہیں، جیسا کہ ہر آئیڈیالوجیکل ریاست میں ہوتا ہے۔
ظہران ممدانی کے خلاف بعض بے بنیاد الزاماتانہی لوگوں نے ظہران ممدانی پر تنقید کرتے ہوئے کئی سازشی تھیوریز کا سہارا لیا، دانستہ طورپر بعض مبالغہ آمیز مغالطے پھیلائے۔
یہ بھی پڑھیے: پاک افغان تنازع: بنیادی نکات پر یکسو ہونا پڑے گا
اسماعیلی شیعہ ہونے کا بے بنیاد الزام: جیسے یہ کہا گیا کہ وہ اسماعیلی شیعہ ہے۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور نہ ظہران ممدانی کی کمپین میں ایسا کچھ کہا گیا۔ وہ غالباً شیعہ تو ہے، اثنا عشری شیعہ۔ تاہم وہ ایک ماڈریٹ مسلمان ہے، کسی فرقہ ورانہ شناخت سے گریز کرنے والا۔ اس نے کبھی مسلکی بات کی نہ اس بنیاد پر سپورٹ حاصل کی۔ مزے کی بات ہے کہ ممدانی کے بدترین مخالفوں نے بھی اس بنیاد پر کمپین نہیں چلائی جو ہمارے ہاں کے سیانوں کو نظر آگئی۔
کمیونسٹ ہونے کا طعنہ: یہ بھی غلط ہے کہ ظہران ممدانی کے والد کمیونسٹ ہیں یا وہ خود کمیونسٹ ہے۔ ظہران ممدانی کے والد پروفیسر محمود ممدانی ایک معروف ایجوکیشنسٹ اور اسکالر ہیں جنہوں نے کالونیل ازم پر خاصا کام کر رکھا ہے۔ وہ نظریاتی مفکر ہیں، کمیونسٹ پارٹی کےکوئی ورکر نہیں۔
ظہران ممدانی خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ کہتے ہیں۔ امریکا میں لیفٹ کے معروف سیاستدان برنی سینڈرز اس حوالے سے نامور آدمی ہیں۔ ممدانی اس حوالے سے بھی کچھ مزید ماڈریٹ ہے۔ وہ عوامی خدمتی ماڈل، ٹیکس اصلاحات، بھاری آمدنی والوں پر ٹیکس لگانے اور غریب عوام کے حقوق کے لیے بولتا ہے۔
اہلیہ عیسائی ہونے کا الزام: ایک جگہ یہ بھی پڑھا کہ ظہران ممدانی کی اہلیہ رما دواجی شامی عیسائی ہیں۔ مجھے بڑی تحقیق کے باوجود کوئی بھی ایسا حوالہ نہیں ملا۔ معلوم نہیں تنقید کرنے والوں کو کس نے بتا دیا۔ وہ خاتون شامی عرب تو ضرور ہیں، مگر اس جوڑے نے اسلامی طریقے کے مطابق نکاح کیا اور شادی ہوئی۔ راما دواجی پر اس پوری کمپین میں کسی نے یہ الزام تک نہیں لگایا۔ یعنی ایک بار پھر ظہران ممدانی کی بدترین کردار کشی کرنے والوں نے بھی وہ بات نہیں کی جو ہمارے لوگوں نے کہہ ڈالی۔
ظہران ممدانی کے ناقدین کھل کر پوزشین لیںاس پورے پس منظر میں ظہران ممدانی کی کامیابی پر ہمارے ہاں خوش ہونے کے قوی دلائل، وجوہات، اسباب موجود ہیں۔ اس پر تنقید کرنا البتہ ناقابل فہم اور غیر منطقی ہے۔ ظہران ممدانی کے ناقد پہلے یہ طے کرلیں کہ وہ کس طرف ہیں؟
وہ اسلامو فوبیا کے حامی ہیں یا مسلم کلچر، مسلم آئیڈنٹٹی کے ساتھ؟ وہ یہ بتائیں کہ سخت گیر صہیونی لابی کے ساتھ ہیں یا پرو فلسطین موقف رکھنے والے کے حامی؟ وہ صدر ٹرمپ، ایلون مسک اور دیگر کارپوریٹ بگ گنز کے گماشتے ہیں یا پھر وہ ان جائنٹس کو ہرانے والے کے ساتھ خوش ہونا چاہیں گے؟ میرے خیال میں تنقید کرنے والوں کو کسی واضح بیانیے کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: پاک افغان جنگ: محرکات، اسباب، وجوہات کو جانیے اور سمجھیے
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ظہران پر طنز کرتے ہیں، وہ دراصل اپنی ہی سماجی مایوسی ظاہر کرتے ہیں۔ انہیں اس بات کا خوف ہے کہ دنیا بدل رہی ہے اور مسلمان مثبت کردار کے ذریعے عزت حاصل کر رہے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
ڈیموکریٹک سوشلسٹ رما دواجی صدر ٹرمپ ظہران ممدانی کمیونسٹ[ ممدانی کی جیت پر پاکستانی خوش میئر نیویارک ظہران ممدانی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈیموکریٹک سوشلسٹ رما دواجی کمیونسٹ ممدانی کی جیت پر پاکستانی خوش میئر نیویارک ظہران ممدانی
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔