Daily Mumtaz:
2026-06-03@04:08:14 GMT

کراچی: یونیورسٹی روڈ، 10 نومبر تا 30 دسمبر بند کرنے کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT

کراچی: یونیورسٹی روڈ، 10 نومبر تا 30 دسمبر بند کرنے کا فیصلہ

 

کراچی (نیوزڈیسک)سڑکوں کی بندش کی ایک نئی لہر ایک بار پھر کراچی کو مفلوج کرنے جارہی ہے، مسلسل تاخیر کا شکار ریڈ لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے نے پہلے شہر کی اہم شاہراہوں کو تعمیراتی زون میں بدل دیا، تو اب کراچی واٹر اینڈ سیوریج سسٹم امپرومنٹ پروجیکٹ (کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی) کا نیا منصوبہ شہر کی مصروف ترین سڑکوں میں سے ایک یونیورسٹی روڈ پر نئی کھدائی، رکاوٹوں اور ٹریفک جام کا سلسلہ لے کر آ رہا ہے۔

حکام کے مطابق نیپا چورنگی سے فیڈرل اردو یونیورسٹی تک یونیورسٹی روڈ کا ایک حصہ 10 نومبر سے 30 دسمبر تک بند رہے گا۔

ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ یہ بندش 96 انچ اور 72 انچ قطر کی نئی پائپ لائنیں بچھانے کے لیے ضروری ہے، جو کہ کے 4 منصوبے کے اضافی حصے میں شامل ہے۔

تقریبا 2.

7 کلومیٹر طویل حصہ شہر کو پانی کی فراہمی کے نظام میں بہتری کے لیے نئی لائنوں کے نیٹ ورک کا حصہ بنے گا۔

تاہم روزانہ کی بنیاد پر ان اہم شاہراؤں سے گزرنے والے، ساتھ ہی گلشنِ اقبال، گلستانِ جوہر اور ملحقہ علاقوں کے لاکھوں رہائشیوں کو ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے نے پہلے ہی ٹریفک جام، گرد و غبار نے پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔

پروجیکٹ دستاویزات کے مطابق پانی کی لائن بچھانے کے منصوبے کا پہلا مرحلہ نیپا چورنگی سے فیڈرل اردو یونیورسٹی تک ہوگا، جبکہ دوسرا مرحلہ حسن اسکوائر سے نیپا چورنگی تک ہو گا۔

حکام نے 30 دسمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے، تاہم شہر میں منصوبوں کی تاخیر اور وقت کی پابندی نہ ہونے کی واقعات دیکھتے ہوئے شہری اس منصوبے پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی