کراچی: یونیورسٹی روڈ، 10 نومبر تا 30 دسمبر بند کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک)سڑکوں کی بندش کی ایک نئی لہر ایک بار پھر کراچی کو مفلوج کرنے جارہی ہے، مسلسل تاخیر کا شکار ریڈ لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے نے پہلے شہر کی اہم شاہراہوں کو تعمیراتی زون میں بدل دیا، تو اب کراچی واٹر اینڈ سیوریج سسٹم امپرومنٹ پروجیکٹ (کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی) کا نیا منصوبہ شہر کی مصروف ترین سڑکوں میں سے ایک یونیورسٹی روڈ پر نئی کھدائی، رکاوٹوں اور ٹریفک جام کا سلسلہ لے کر آ رہا ہے۔
حکام کے مطابق نیپا چورنگی سے فیڈرل اردو یونیورسٹی تک یونیورسٹی روڈ کا ایک حصہ 10 نومبر سے 30 دسمبر تک بند رہے گا۔
ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ یہ بندش 96 انچ اور 72 انچ قطر کی نئی پائپ لائنیں بچھانے کے لیے ضروری ہے، جو کہ کے 4 منصوبے کے اضافی حصے میں شامل ہے۔
تقریبا 2.
تاہم روزانہ کی بنیاد پر ان اہم شاہراؤں سے گزرنے والے، ساتھ ہی گلشنِ اقبال، گلستانِ جوہر اور ملحقہ علاقوں کے لاکھوں رہائشیوں کو ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے نے پہلے ہی ٹریفک جام، گرد و غبار نے پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔
پروجیکٹ دستاویزات کے مطابق پانی کی لائن بچھانے کے منصوبے کا پہلا مرحلہ نیپا چورنگی سے فیڈرل اردو یونیورسٹی تک ہوگا، جبکہ دوسرا مرحلہ حسن اسکوائر سے نیپا چورنگی تک ہو گا۔
حکام نے 30 دسمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے، تاہم شہر میں منصوبوں کی تاخیر اور وقت کی پابندی نہ ہونے کی واقعات دیکھتے ہوئے شہری اس منصوبے پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔