زہران ممدانی کا انتخاب، امریکا دو حصوں میں بٹ گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
ٹرمپ کے ارب پتی حامی اور ممدانی کے ارب پتی مخالفین،سیاسی و معاشی بحث کا مرکزبن گیا
یہ سب اس ٹیکس نظام کا نتیجہ جو امیروں کے حق میں بنایا گیا ہے،نومنتخب میئرنیویارک کی گفتگو
امریکا میں ارب پتی طبقہ ایک بار پھر سیاسی و معاشی بحث کے مرکز میں ہے۔ کچھ کے نزدیک یہی لوگ ملک کی ترقی کا محرک ہیں، تو کچھ کے خیال میں یہی طبقہ عدم مساوات کو بڑھا رہا ہے۔نیویارک سٹی کے پہلے مسلمان میٔر کے طور پر زہران ممدانی کا انتخاب اُن نظریات کی جیت ہے جو امیروں پر زیادہ ٹیکس اور عوامی فلاح پر زیادہ خرچ کے حامی ہیں۔ تقریباً 25 سال بعد ریکارڈ ووٹر ٹرن آؤٹ والے اس الیکشن میں زیادہ تر شہریوں نے اس 34 سالہ نوجوان ڈیموکریٹ پر اعتماد ظاہر کیا، جو افریقا میں پیدا ہونے والے بھارتی نژاد امریکی ہیں۔ ممدانی کا کہنا ہے کہ یہ سب اس ٹیکس نظام کا نتیجہ ہے جو امیروں کے حق میں بنایا گیا ہے۔ وہ بڑھتے کرایوں، مہنگائی اور غیر مساوی دولت کی تقسیم جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہیں۔ان کی تجاویز میں کارپوریٹ ٹیکس بڑھانا اور ایک ملین ڈالر سے زائد آمدنی پر 2 فیصد ٹیکس لگانا شامل ہے۔ خود کو "ڈیموکریٹک سوشلسٹ” کہنے والے ممدانی کی جیت نے اُن حلقوں کو حوصلہ دیا ہے جو سمجھتے ہیں کہ امیر طبقے پر ٹیکس لگانے سے عوامی فلاح کے لیے وسائل پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سوچ حقیقت سے دور ہے اور سرمائے کے انخلا کا باعث بن سکتی ہے۔میٔر کے الیکشن میں فتح کے بعد ممدانی نے اپنی تقریر میں مزدور طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جن ہاتھوں نے گوداموں میں بکس اُٹھائے، جن ہتھیلیوں پر سائیکل کے ہینڈل کے نشان ہیں، جن انگلیوں پر باورچی خانے کے زخم ہیں، ان ہاتھوں کو کبھی طاقت نہیں دی گئی۔ مگر آج انہی ہاتھوں نے یہ طاقت حاصل کر لی ہے۔یہ الیکشن صرف ایک سیاسی مقابلہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی جنگ بھی تھی کہ کیا ارب پتی طبقہ ترقی کے لیے ضروری ہے یا عدم مساوات کی جڑ ہے؟ ممدانی نے کہا تھا میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں ارب پتی افراد کی ضرورت ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو خود ایک ارب پتی ہیں، نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر کمیونسٹ امیدوار زہران ممدانی نیویارک کے میٔر منتخب ہوئے تو میں اس شہر کے لیے وفاقی فنڈز کم سے کم سطح پر رکھوں گا۔یہ ٹکراؤ صرف سیاست کا نہیں بلکہ معیشت کا بھی ہے۔ ٹرمپ کا الزام ہے کہ ملک کی مشکلات کی وجہ غیر منصفانہ تجارتی پالیسیاں، غیر قانونی تارکین وطن اور میڈیا کے گمراہ کن بیانیے ہیں۔دوسری جانب ممدانی کا کہنا ہے کہ یہ سب اس ٹیکس نظام کا نتیجہ ہے جو امیروں کے حق میں بنایا گیا ہے۔انتخابات سے ایک روز پہلے ممدانی نے بروکلین برج پر واک کرتے ہوئے کہا کہ میں ہر دن اس شہر کو اس طرح تیار کروں گا کہ وہ نہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ جیسے خطرات کا مقابلہ کرے بلکہ اس بحران سے بھی نمٹے جو ہر چار میں سے ایک نیویارکر کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ممدانی کا ارب پتی کے لیے
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔