Juraat:
2026-06-03@08:19:40 GMT

زہران ممدانی کا انتخاب، امریکا دو حصوں میں بٹ گیا

اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT

زہران ممدانی کا انتخاب، امریکا دو حصوں میں بٹ گیا

ٹرمپ کے ارب پتی حامی اور ممدانی کے ارب پتی مخالفین،سیاسی و معاشی بحث کا مرکزبن گیا
یہ سب اس ٹیکس نظام کا نتیجہ جو امیروں کے حق میں بنایا گیا ہے،نومنتخب میئرنیویارک کی گفتگو

امریکا میں ارب پتی طبقہ ایک بار پھر سیاسی و معاشی بحث کے مرکز میں ہے۔ کچھ کے نزدیک یہی لوگ ملک کی ترقی کا محرک ہیں، تو کچھ کے خیال میں یہی طبقہ عدم مساوات کو بڑھا رہا ہے۔نیویارک سٹی کے پہلے مسلمان میٔر کے طور پر زہران ممدانی کا انتخاب اُن نظریات کی جیت ہے جو امیروں پر زیادہ ٹیکس اور عوامی فلاح پر زیادہ خرچ کے حامی ہیں۔ تقریباً 25 سال بعد ریکارڈ ووٹر ٹرن آؤٹ والے اس الیکشن میں زیادہ تر شہریوں نے اس 34 سالہ نوجوان ڈیموکریٹ پر اعتماد ظاہر کیا، جو افریقا میں پیدا ہونے والے بھارتی نژاد امریکی ہیں۔ ممدانی کا کہنا ہے کہ یہ سب اس ٹیکس نظام کا نتیجہ ہے جو امیروں کے حق میں بنایا گیا ہے۔ وہ بڑھتے کرایوں، مہنگائی اور غیر مساوی دولت کی تقسیم جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہیں۔ان کی تجاویز میں کارپوریٹ ٹیکس بڑھانا اور ایک ملین ڈالر سے زائد آمدنی پر 2 فیصد ٹیکس لگانا شامل ہے۔ خود کو "ڈیموکریٹک سوشلسٹ” کہنے والے ممدانی کی جیت نے اُن حلقوں کو حوصلہ دیا ہے جو سمجھتے ہیں کہ امیر طبقے پر ٹیکس لگانے سے عوامی فلاح کے لیے وسائل پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سوچ حقیقت سے دور ہے اور سرمائے کے انخلا کا باعث بن سکتی ہے۔میٔر کے الیکشن میں فتح کے بعد ممدانی نے اپنی تقریر میں مزدور طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جن ہاتھوں نے گوداموں میں بکس اُٹھائے، جن ہتھیلیوں پر سائیکل کے ہینڈل کے نشان ہیں، جن انگلیوں پر باورچی خانے کے زخم ہیں، ان ہاتھوں کو کبھی طاقت نہیں دی گئی۔ مگر آج انہی ہاتھوں نے یہ طاقت حاصل کر لی ہے۔یہ الیکشن صرف ایک سیاسی مقابلہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی جنگ بھی تھی کہ کیا ارب پتی طبقہ ترقی کے لیے ضروری ہے یا عدم مساوات کی جڑ ہے؟ ممدانی نے کہا تھا میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں ارب پتی افراد کی ضرورت ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو خود ایک ارب پتی ہیں، نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر کمیونسٹ امیدوار زہران ممدانی نیویارک کے میٔر منتخب ہوئے تو میں اس شہر کے لیے وفاقی فنڈز کم سے کم سطح پر رکھوں گا۔یہ ٹکراؤ صرف سیاست کا نہیں بلکہ معیشت کا بھی ہے۔ ٹرمپ کا الزام ہے کہ ملک کی مشکلات کی وجہ غیر منصفانہ تجارتی پالیسیاں، غیر قانونی تارکین وطن اور میڈیا کے گمراہ کن بیانیے ہیں۔دوسری جانب ممدانی کا کہنا ہے کہ یہ سب اس ٹیکس نظام کا نتیجہ ہے جو امیروں کے حق میں بنایا گیا ہے۔انتخابات سے ایک روز پہلے ممدانی نے بروکلین برج پر واک کرتے ہوئے کہا کہ میں ہر دن اس شہر کو اس طرح تیار کروں گا کہ وہ نہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ جیسے خطرات کا مقابلہ کرے بلکہ اس بحران سے بھی نمٹے جو ہر چار میں سے ایک نیویارکر کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ممدانی کا ارب پتی کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟