WE News:
2026-06-03@06:39:12 GMT

ظہران ممدانی، قصہ گو سیاستدان

اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT

ظہران ممدانی کی جیت پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے، اس کے پس منظر، خاندان اور اس کی بیوی کے حوالے سے بھی۔ مگر جس پہلو پر کم گفتگو ہوئی، وہ ہے ظہران کی انتخابی مہم کا تخلیقی بیانیہ، اس کا کہانی سنانے کا ہنر، اور اس ہنر کے ذریعے عوام سے جڑنے کی صلاحیت۔ یہی وہ عنصر ہے جو ہماری سیاست میں شاذ و نادر دکھائی دیتا ہے۔

اپنی جیت کی تقریر میں جواہر لعل نہرو کا حوالہ دینے والا یہ نوجوان نیویارک شہر کی 130 سالہ تاریخ کا کم عمر ترین، پہلا مسلمان اور پہلا جنوبی ایشیائی نژاد میئر ہے۔ نیویارک کے 111ویں میئر کے طور پر اس کی جیت تاریخی تھی۔ 1969 کے بعد سب سے زیادہ عوامی ٹرن آؤٹ اسی انتخاب میں ہوا۔ یہاں تک کہ اسے اپنے حمایتیوں سے کہنا پڑا کہ اب چندے بھیجنا بند کریں، کیونکہ مہم کے تمام اخراجات پورے ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آو کہ کوئی خواب بُنیں کل کے واسطے

یہ وہی ظہران ممدانی ہے جو سال کے آغاز میں انتخابی دوڑ میں بالکل صفر پر کھڑا تھا، نہ سرمایہ، نہ اثر و رسوخ، اور اوپر سے وہ تمام شناختی ’لیبلز‘ جو نیویارک جیسے شہر میں کسی امیدوار کو کمزور بنا دیتے ہیں۔ مگر ظہران کی سیاست دراصل اُس نئے شہری بیانیے کی نمائندہ ہے جو نسل، مذہب یا قومیت سے آگے بڑھ کر تعلق، شناخت اور شمولیت کو مرکز بناتا ہے۔ اس نے امریکی سیاست کے اُس بیانیے کو چیلنج کیا جس میں طاقت، سرمایہ اور سفید فام شناخت مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

ظہران ممدانی کے خلاف مخالفین اور طاقت ور طبقے کی طرف سے ایک نفرت انگیز، نسلی امتیاز پر مبنی مہم چلائی گئی۔ اونچے طبقے نے اسے اُنھی الزامات کا نشانہ بنایا جو وہ ہمیشہ تارکینِ وطن پر لگاتے ہیں۔ مگر ظہران نے اس نفرت آمیز پروپیگنڈے کو سمجھداری سے اپنا ہتھیار بنا لیا۔ جب مخالفین اس کی شناخت پر سوال اٹھا رہے تھے اور بین الاقوامی مسائل میں عوام کو الجھا رہے تھے، وہ صرف نیویارک کے باسیوں کی بات کر رہا تھا۔

اس نے اپنی شناخت کی کمزوری کو طاقت بنایا۔ اس نے سوشل میڈیا کو صرف بیانیہ پیش کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اپنی مہم کو ہی ایک کہانی میں بدل دیا، ایسی کہانی جس میں وہ خود ہیرو نہیں تھا۔ عام طور پر سیاستدان صرف اپنی کہانیوں کے ہی نہیں بلکہ عوام کی کہانیوں کے بھی ہیرو خود بننے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ظہران نے اُلٹا راستہ اختیار کیا۔ اُس نے خود کو عوام کی کہانیوں میں ضم کر دیا۔ اس کی ہر کہانی کا ہیرو وہ مزدور طبقہ ہے جو کرایوں کے دباؤ، صحت کی خرابی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل سے دوچار ہے، اور ظہران اس کہانی میں صرف ایک معاون کردار ہے، ہیرو کا دوست۔

یہ بھی پڑھیں:جین زی (Gen Z) کی تنہائی اور بے چینی

ظہران کی مہم اپنے لہجے اور عوامی انداز میں لندن کے میئر صادق خان اور امریکی سیاست دان الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کی یاد دلاتی ہے، مگر اس میں جنوبی ایشیائی جذباتیت اور نیویارک کی ثقافتی روانی کا اپنا منفرد رنگ ہے۔ وہ کبھی عربی میں بات کرتا، کبھی اردو میں، کبھی ہسپانوی میں۔ کبھی کسی عوامی ریپر یا سڑک کنارے بینڈ کے ساتھ گاتا، کبھی بولی ووڈ کے مکالمے دہراتا۔

ایک ویڈیو میں وہ پوچھتا ہے:

’کیا تم نے کبھی کسی کو ووٹ دیا ہے؟‘

اور سامنے سے ہجوم گونجتا ہے: ’نہیں یں ں!‘

یہ منظر فوراً قرض فلم کے رشی کپور کی یاد دلاتا ہے، جو کچھ ایسے ہی سوال ہجوم سے کرتا ہے۔ یعنی ظہران بغیر محسوس کرائے عوام کی فلم میں معاون اداکار سے ہیرو بن جاتا ہے۔

ظہران نے اپنی انتخابی مہم کو ایک تھیٹر میں بدل دیا۔ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر وہ کبھی سمندر کنارے کھڑا سنگین مسائل پر بات کرتا ہے، پھر انگریزی میں کہتا ہے:

’ Let’s indulge in the details.

اور یہ کہہ کر سوٹ پہنے سمندر میں چھلانگ لگا دیتا ہے۔ لوگ ہنستے ہیں، اور اسی ہنسی میں ایک رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔

ظہران کی مہم میں توانائی، تحرک اور تاثر تینوں موجود تھے۔ وہ کبھی بھاگتا، کبھی کسی بس میں بیٹھ کر بات کرتا، کبھی ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ تصویر کھنچواتا۔ جب وہ بہتر ٹرانسپورٹ پالیسی کی بات کرتا تو کسی اسٹوڈیو میں نہیں بلکہ بس کے اندر سفر کرتے ہوئے۔ یہ سب علامتی اشارے تھے کہ وہ انہی میں سے ہے، ان ہی کے بیچ سے آیا ہے۔

جہاں دوسرے سیاست دان جلسوں میں دور سے ہاتھ ہلا رہے تھے، وہاں ظہران عوام کے بیچ گھوم رہا تھا، ان کی زبان بول رہا تھا، ان کے دکھ درد کو روز مرہ مناظر میں پیش کر رہا تھا۔ اس کے لہجے میں خوشی بھی تھی، غصہ بھی، درد بھی اور امید بھی۔

اس کی انسٹاگرام پوسٹس محض اعلانات نہیں بلکہ بیانیے کی توسیع تھیں۔ ایک پوسٹ میں وہ نیویارک کے بڑھتے کرایوں، سست بس سروس، مہنگی چائلڈ کیئر اور کرپشن پر بات کرتا ہے، مگر انداز ایک وکیل یا لیڈر کا نہیں بلکہ ایک عام شہری کا ہے:

‘The cost of living is the real crisis… a mayor could change this. And that’s why I’m running… Because this is New York. We can afford to dream.’

ظہران کی سیاست یہ ثابت کرتی ہے کہ جب سیاست کہانی بن جائے تو لوگ منشور نہیں بلکہ احساس کے رشتے میں جڑتے ہیں۔ اس نے سیاست کو پھر سے انسانی شکل دی، اور یاد دلایا کہ اگر کہانی سنانے کا فن ایمانداری، حساسیت اور تخلیقی جرات کے ساتھ استعمال کیا جائے تو صرف ووٹ نہیں، دل بھی جیتے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:طلاق اور علیحدگی کے بدلتے اصول: ’گرے ڈائیورس‘ کا بڑھتا ہوا رجحان

البتہ سوال یہ ہے کہ کیا سیاست کو کہانی بنا دینا اس کے پیچیدہ حقائق کو سادہ نہیں کر دیتا؟ کیا ظہران کی مہم جذباتی وابستگی کے بعد عملی گورننس میں بھی وہی تازگی برقرار رکھ سکے گی؟ وقت ہی اس کا جواب دے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

قرۃ العین حیدر

ظہران ممدانی قصہ گو نیوریارک نیویارک میئر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: قصہ گو نیوریارک نیویارک میئر نہیں بلکہ ظہران کی کی سیاست بات کرتا رہا تھا کے ساتھ بات کر

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟