لندن، ایمرجنسی نمبر پر صرف 15 فیصد کالز ہنگامی صورت حال سے متعلق تھیں، پولیس
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برس ایمرجنسی نمبر 999 پر کی جانے والی صرف 15 فیصد کالز واقعی ہنگامی صورت حال سے متعلق تھیں۔
میٹرو پولیٹن پولیس کے مطابق ایمرجنسی نمبر پر کال کرنے والے بعض افراد نے اس لئے بھی کال کی کہ ان کے کمرے میں مکڑی گھس آئی ہے، کسی نے بتایا کہ ان کا کتا واپس گھر نہیں آیا، جبکہ کسی نے شکایت کی کہ ڈلیوری ڈرائیور کا پتہ نہیں چل رہا کہ وہ کہاں ہے۔
میٹ پولیس کا کہنا ہے کہ جولائی 2024 سے جولائی 2025 تک 1.
فورس کی کمانڈر کیرولائن ہینز کا کہنا ہے کہ جب کسی کی جان خطرے میں ہو یا جرم سرزد ہورہا ہو تو چند سیکنڈز بھی قیمتی ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ایمرجنسی پر بہت زیادہ ایسی کالز موصول ہوتی ہیں جو ہنگامی صورت حال کے بارے میں نہیں ہوتیں اور نہ ہی وہ معاملہ پولیس کے نمٹنے کا ہوتا ہے۔
میٹ پولیس کے مطابق بعض غیر ہنگامی کالز میں گزشتہ جرائم کے بارے میں اپ ڈیٹس مانگی جاتی ہیں یا چوری ہونے والی اشیا کی کئی روز کے بعد رپورٹ کیلئے رابطہ کیا جاتا ہے۔
بعض افراد باہمی اختلافات مثلا کرائے دار اور مالک مکان کے تنازع پر بھی ایمرجنسی نمبر پر کال کردیتے ہیں، میٹ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف جان کے خطرے یا سرزد ہوتے جرم کی اطلاع کیلئے ایمرجنسی نمبر پر کال کریں، دیگر معاملات 101 پر کال کرکے نمٹائے جاسکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایمرجنسی نمبر پر ہنگامی صورت حال پر کال
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں