گھوٹکی : پولیس رینجرز آپریشن، 9 ڈاکو ہلاک، اہلکار شہید،2زخمی
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
رونتی میںفورسز کا شر گینگ سے تعلق رکھنے والے ڈاکوؤں کیخلاف بڑے پیمانے پر آپریشن
پرانی دشمنی کی وجہ سے ڈاکوؤں کے دو گروپوںمیں تصادم،ملزمان سے اسلحہ اور دیگر مواد برآمد
ضلع گھوٹکی کے کچے کے علاقے رونتی میں پولیس اور رینجرز کی مشترکہ فورسز نے شر گینگ سے تعلق رکھنے والے ڈاکوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا ہے۔ پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران شدید مقابلے میں 9خطرناک ڈاکو ہلاک ہوگئے، جن میں گڈی شر، اکبر شر سمیت دیگر شامل ہیں۔ واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایس ایس پی انور کھیتران نے بتایا کہ رونتی کے کچے علاقے میں پرانی دشمنی کی وجہ سے ڈاکوؤں کے دو گروپوں کے درمیان پہلے تصادم ہوا۔ جب پولیس موقع پر پہنچی تو ڈاکوؤں نے پولیس پارٹی پر براہ راست حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار امجد شہید جبکہ دو دیگر اہلکار زخمی ہوگئے۔ ایس ایس پی انور کھیتران نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ پولیس اور رینجرز نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی اور جدید ڈرون کیمروں، بھاری ہتھیاروں اور بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں چھ ڈاکو ہلاک ہوئے، ہلاک ڈاکوؤں کی لاشیں پولیس کی تحویل میں لے لی گئی ہیں جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ڈاکوو ں کے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔