عوامی جگہوں پر موبائل فون چارج کرنیوالوں کیلئے اہم خبر
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک:امریکی ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن نے انتباہ جاری کیا ہے جس میں عوامی جگہوں پر لگے یو ایس بی چارجرز کے استعمال سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، اس انتباہ میں بتایا گیا ہے کہ ہیکرز ایسے چارجنگ پورٹس میں چھیڑ چھاڑ کرکے صارفین کے فونز سے ڈیٹا چرا سکتے ہیں یا ان میں میل ویئر (Malware) انسٹال کر سکتے ہیں۔
ایک ایسا طریقہ ہے جس میں متاثرہ یو ایس بی پورٹ کے ذریعے فون کو چارج کرتے وقت ڈیٹا چوری کیا جاتا ہے یا نقصان دہ سافٹ ویئر منتقل کیا جاتا ہے۔ چونکہ یو ایس بی کیبل ایک ہی وقت میں بجلی اور ڈیٹا دونوں منتقل کرتی ہے، اس لیے ہیکرز اس کنکشن کا غلط استعمال کر سکتے ہیں۔
ڈالر کی قیمت میں کمی
ماہرین کے مطابق ایسے کیسز انتہائی کم دیکھنے میں آئے ہیں۔ 2019 کی ایک رپورٹ کے مطابق، لاس اینجلس کے پراسیکیوٹر نے بتایا تھا کہ ’جوس جیکنگ‘ کے کوئی مصدقہ کیس ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔
ماہرین کے مطابق اصل خطرہ ان چارجنگ اسٹیشنز کے نقصان دہ یا غیر معیاری وولٹیج سے ہوتا ہے، جو فون کے سرکٹ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ عوامی وائی فائی نیٹ ورکس سے جڑنا، غیر محفوظ یو ایس بی ڈرائیوز کا استعمال یا غیر لاک شدہ فون گم ہو جانا زیادہ عام اور حقیقی خطرات ہیں۔
روزِ اول سے پاکستان کو ڈیجیٹل نیشن بنانے کیلئے اقدامات کو اولین ترجیح دی؛ وزیراعظم
فون کو محفوظ رکھنے کے آسان طریقے
اگر فون کسی نئے ڈیوائس سے جڑنے پر پوچھے کہ ’کیا آپ اس ڈیوائس پر بھروسہ کرتے ہیں؟‘ تو ناں‘ کا انتخاب کریں، کیونکہ چارجنگ کے لیے ڈیٹا کنکشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اپنے فون کا سافٹ ویئر ہمیشہ ’اپ ڈیٹ‘ رکھیں تاکہ میل ویئر سے بچاؤ ممکن ہو۔
بہتر ہے کہ اپنا چارجر یا پاور بینک ساتھ رکھیں اور عوامی یو ایس بی پورٹس کے بجائے صرف بجلی کے ساکٹ استعمال کریں۔
رکشہ ڈرائیور کو بچانے والا پولیس کانسٹیبل چل بسا
یہ احتیاطی تدابیر نہ صرف آپ کے ڈیٹا بلکہ آپ کے فون کی کارکردگی کو بھی محفوظ رکھ سکتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: یو ایس بی
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔