شہریوں کا ڈیٹا فروخت کرنے والا ملزم گرفتار، کروڑوں پاکستانیوں کا ریکارڈ برآمد
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے انٹرنیٹ پر شہریوں کا ذاتی ڈیٹا فروخت کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کرلیا ہے، جس کے قبضے سے کروڑوں پاکستانیوں کی معلومات پر مشتمل ہارڈ ڈرائیو برآمد ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی خصوصی ہدایت پر ڈی جی نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی، کئی روز کی نگرانی اور خفیہ کارروائی کے بعد سائبر کرائم ٹیم نے بھکر کے رہائشی انیس احمد شاہ نامی ملزم کو گرفتار کیا۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کے قبضے سے ایک ٹیرابائٹ کی ہارڈ ڈسک ملی ہے، جس میں کروڑوں پاکستانی شہریوں کے شناختی کارڈ نمبرز، پتوں اور دیگر حساس معلومات کا ریکارڈ موجود تھا۔
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم یہ ڈیٹا بلیک مارکیٹ سے خرید کر مختلف ویب سائٹس کے ذریعے فروخت کرتا تھا، وہ 10 سے زائد غیر قانونی ویب سائٹس چلا رہا تھا جن پر شہریوں کا ذاتی ڈیٹا فروخت کے لیے پیش کیا جاتا تھا، ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے جب کہ حکام کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر ایسی مزید ویب سائٹس کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے جو شہریوں کا ڈیٹا بیچنے میں ملوث ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہریوں کا
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔