گھوٹکی: پولیس ورینجرز کا آپریشن، 6 ڈاکو ہلاک، ایک اہلکار شہید،2زخمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
(فائل فوٹو)
گھوٹکی:۔ ضلع گھوٹکی کے کچے کے علاقے رونتی میں پولیس اور رینجرز کی مشترکہ فورسز نے شر گینگ سے تعلق رکھنے والے ڈاکوﺅں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا ہے۔ پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران شدید مقابلے میں 6 خطرناک ڈاکو ہلاک ہوگئے، جن میں گڈی شر، اکبر شر سمیت دیگر شامل ہیں۔
واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایس ایس پی انور کھیتران نے بتایا کہ رونتی کے کچے علاقے میں پرانی دشمنی کی وجہ سے ڈاکوﺅں کے دو گروپوں کے درمیان پہلے تصادم ہوا۔ جب پولیس موقع پر پہنچی تو ڈاکوﺅں نے پولیس پارٹی پر براہ راست حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار امجد شہید جبکہ دو دیگر اہلکار زخمی ہوگئے۔
ایس ایس پی انور کھیتران نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ پولیس اور رینجرز نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی اور جدید ڈرون کیمروں، بھاری ہتھیاروں اور بکتربند گاڑیوں کی مدد سے ڈاکوﺅں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 6 ڈاکو ہلاک ہوئے، ہلاک ڈاکوﺅں کی لاشیں پولیس کی تحویل میں لے لی گئی ہیں جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
ایس ایس پی نے مزید کہا کہ یہ آپریشن ڈاکوﺅں کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔ کچے کے علاقے میں جرائم کی حوصلہ شکنی کے لیے ہمارا عزم پختہ ہے، اور ایسے عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے شہید اہلکار امجد کی فیملی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکوﺅں کے
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک