وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے بیان پر وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کا شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
پشاور (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر انجینئر امیر مقام نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حالیہ بیان کو افسوسناک اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز بیانات کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام سیکیورٹی فورسز اور پاک افواج کی لازوال قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور شہداء کے خون کا احترام ان کے ایمان کا حصہ ہے۔
انجینئر امیر مقام کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کا بیان فردِ واحد کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، یہ خیبرپختونخوا کے عوام کا مؤقف نہیں۔ ایسی باتیں دشمن کے بیانیے کو تقویت دیتی ہیں اور عوام میں انتشار و اداروں کے خلاف بداعتمادی پھیلانے کی کوشش کے مترادف ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مساجد اور شہداء کے تقدس کے نام پر نفرت پھیلانا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ وزیراعلیٰ کا منصب سنجیدگی، ذمہ داری اور قومی یکجہتی کا تقاضا کرتا ہے، نہ کہ اداروں سے ٹکراؤ اور انتشار کا۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہمیشہ امن، ترقی اور استحکام پر مبنی رہا ہے، اور یہی عوام کا اصل حق ہے جس کے لیے پارٹی پرعزم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا کے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔