وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا حالیہ بیان افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز ہے۔ وفاقی وزیر امیر مقام
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
سٹی 42: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حالیہ بیان پر وفاقی وزیر و صوبائی صدر مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا انجینئر امیر مقام نے بھی ردعمل دے دیا
وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا حالیہ بیان افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز ہے۔ ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز بیانات کسی بھی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔
خیبرپختونخوا کے عوام سیکیورٹی فورسز اور پاک افواج کی امن و استحکام کیلئے قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔خیبرپختونخوا کے عوام شہداء کی لازوال قربانیوں اور ان کے خون کا احترام کرتے ہیں۔ یہ کسی فرد واحد کی دہشتگردانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے نہ کہ صوبے کی عوام کا۔ایسی باتیں دشمن کے بیانیے کو تقویت دیتی ہیں، عوام میں انتشار اور ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنا کسی محب وطن قیادت کا شیوہ نہیں۔
ڈالر کی قیمت میں کمی
امیر مقام نے کہا مساجد اور شہداء کے تقدس کے نام پر نفرت انگیزی پھیلانا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔وزیراعلیٰ کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا منصب ذمہ داری، سنجیدگی اور قومی یکجہتی کا متقاضی ہے، نہ کہ انتشار اور اداروں سے ٹکراؤ کا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) واضح موقف رکھتی ہے کہ امن، ترقی اور استحکام ہی خیبرپختونخوا کے عوام کا اصل حق ہے۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا وزیراعلیٰ صوبے کے آئینی سربراہ ہیں، انہیں اپنے عہدے کی حرمت برقرار رکھتے ہوئے قومی اداروں سے تصادم نہیں بلکہ تعاون کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔
روزِ اول سے پاکستان کو ڈیجیٹل نیشن بنانے کیلئے اقدامات کو اولین ترجیح دی؛ وزیراعظم
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا کے وفاقی وزیر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔