سابق امریکی اسپیکر نینسی پلوسی سیاست سے کنارہ کش ہوگئیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ایوان نمائندگان کانگریس کی سابق اسپیکر نینسی پلوسی نے کئی دہائیوں پر محیط اپنے سیاسی کیریئر کے اختتام کا باضابطہ طور پر اعلان کردیا۔ 85 سالہ نینسی پلوسی نے ایک وڈیو پیغام میں کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ سب سے پہلے یہ خبر سان فرانسسکو کے عوام سنیں کہ وہ آئندہ کانگریس کے انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔ پلوسی نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب اپنی نشست پر موجودگی نہیں بڑھائیں گی اور نوجوان قیادت کو آگے آنے کا موقع دیں گی۔ پلوسی نے اپنے فیصلے میں وضاحت کی ہے کہ وہ 2027 ء تک اپنی نشست سنام فرانسسکو سے برقرار رکھیں گی، تاہم اب اس کے بعد اگلی مدت کے لیے امیدوار نہیں بنیں گی۔نینسی پلوسی اس وقت کانگریس میں اپنی انیسویں مدت مکمل کر رہی ہیں جو 3جنوری 2027 ء کو ختم ہوگی۔ 2007 ء میں امریکی تاریخ میں ایوانِ نمائندگان کی پہلی خاتون اسپیکر بننے والی پلوسی کو امریکی سیاست میں انتہائی ذہین، اسٹریٹجک اور مؤثر رہنما کے طور پر جانا جاتا ہے۔انہوں نے سابق صدر باراک اوباما کے دور میں تاریخی ہیلتھ کیئر ریفارم بل کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا جبکہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں انفرا اسٹرکچر اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اہم قوانین کو ایوان سے منظور کرایا۔دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے نینسی پلوسی کو شیطان خاتون قرار دے دیا۔ صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہاوہ شیطان صفت ہیں اور ریٹائر ہو کر ملک کی سب سے بڑی خدمت کر رہی ہیں۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ وہ ملک کے لیے شدید بوجھ تھیں۔انہوں نے انتہائی خراب کام کیے اور ملک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ ان کے الفاظ نے امریکی سیاسی منظرنامے میں بحث کو جنم دے دیا ہے جہاں دونوں جماعتوں کے حریف رہنماؤں کے بیانات اور رویوں پر عوامی توجہ مرکوز ہے۔ ٹرمپ نے پلوسی کے دورِ قیادت کے دوران 2بار ان کے مواخذے کا ذکر کیا، ان کی کارکردگی پر سوال اٹھایا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نینسی پلوسی پلوسی نے
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔