فلپائن میں طوفان میں فوجی ہیلی کاپٹر بھی تباہ، مجموعی اموات 86 ہوگئیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
فلپائن میں آنے والے طاقتور طوفان کالماگی نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہر طرف لاشیں اور گھروں کا ملبہ پڑا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فلپائن فوج کا ہیلی کاپٹر جزیرہ منڈاناؤ کے علاقے میں گرکر تباہ ہوگیا جو اگوسان ڈیلسور کے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں انجام دے رہا تھا۔
امدادی ہیلی کاپٹر نامعلوم وجوہات کی بنا پر گرکر تباہ ہوگیا اور اس میں سوار تمام چھ اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ جلی ہوئی لاشوں کو ملبے سے نکال لیا گیا۔ ان چھ اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد فلپائن میں آنے والے طوفان کالماگی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 86 تک جا پہنچی ہے۔
سب سے زیادہ تباہی جزیرہ سیبو میں ہوئی جہاں 39 افراد ڈوبنے یا ملبے کے نیچے آ کر ہلاک ہوئے۔ قریبی جزیرے بوہول سے بھی ایک ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔
اب تک 10 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ سیکڑوں مکانات زیرِ آب آ گئے۔ کئی شہروں میں بجلی منقطع ہے اور ٹیلی فون سروس بھی متاثر ہوئی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی علاقوں میں گاڑیاں پانی کے بہاؤ میں بہہ گئیں۔ گاڑیاں ایک دوسرے کے اوپر چڑھی ہوئی نظر آئیں۔
یاد رہے کہ فلپائن میں سالانہ اوسطاً 20 طوفان آتے ہیں اور حالیہ مہینوں میں ملک زلزلوں اور شدید موسمی حالات سے پہلے ہی متاثر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فلپائن میں
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک