سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
اسلام آباد ( نیوزڈیسک) سربراہ عوامی مسلم لیگ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا۔
شیخ رشید احمد عمرہ کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب جا رہے تھے۔
سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے آرڈر کے باوجود عمرہ پر جانے سے اسلام آباد ایئر پورٹ پر روک لیا گیا، ہائی کورٹ کے جسٹس صداقت علی خان نے میرے عمرے پر جانے کیلئے آرڈرجاری کیا، کاپی بھی متعلقہ اداروں کو پہنچادی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جسٹس صداقت علی خان نے اداروں کے متعلقہ افسران کو سختی سے ہدایت کی تھی کہ کوئی شکایت نہ آئے، آج مجھے ایئرپورٹ پرعمرے سے جانے سے روک دیا ہے، توہین عدالت کیلئے جسٹس صداقت علی خان کی کورٹ میں جاؤں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ عابد اور توقیر نامی دو افسران نے مجھے کہا کہ آپ عمرے پر نہیں جا سکتے، انہوں نے ہائی کورٹ کا آرڈر ماننے سے صاف انکار دیا۔
شیخ رشید احمد نے مزید کہا کہ جس ملک میں ہائی کورٹ کا آرڈر نہ چلتا ہو پھر آسمان کی طرف دیکھ کر اللہ سے ہی مدد مانگنی ہے، اللہ ہی عمرہ کرائے گا اوران افسران کو اپنے فیصلے پر شرمندہ بھی ہونا پڑے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔