نینسی پلوسی کا امریکی سیاست میں ڈیموکریٹک پارٹی کو چھوڑنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی ایوانِ نمائندگان کی سابق اسپیکر اور ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی نے تقریباً 40 سالہ سیاسی سفر کے بعد کانگریس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق نینسی پلوسی نے اپنے آبائی شہر سان فرانسسکو کے عوام کے نام جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ آئندہ مدت کے بعد دوبارہ الیکشن میں حصہ نہیں لیں گی۔
85 سالہ پلوسی نے کہاکہ میں آپ سب کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میں آئندہ کانگریس کے انتخابات میں حصہ نہیں لوں گی۔ سان فرانسسکو کے عوام کی نمائندگی میرے لیے سب سے بڑا اعزاز رہا ہے، پلوسی 1987 میں پہلی بار ایک خصوصی انتخاب میں کانگریس کی رکن منتخب ہوئیں اور تب سے وہ مسلسل سان فرانسسکو کی نمائندگی کرتی آرہی ہیں، وہ ایوان نمائندگان کی پہلی خاتون اسپیکر رہ چکی ہیں، جنہوں نے دو ادوار (2007 تا 2011 اور 2019 تا 2023) میں اسپیکر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ کے اعتماد کی بدولت میں نے اپنی سٹی اور اپنے ملک کی نمائندگی دنیا بھر میں فخر کے ساتھ کی، وہ اپنی آئندہ اور آخری پارلیمانی مدت میں بھی عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گی اور اپنے کیریئر کے اختتامی سال کو ’’باعزت اختتام دینے کی کوشش کریں گی۔
ذرائع کے مطابق پلوسی کے فیصلے کو امریکی سیاست کے ایک تاریخی باب کے اختتام کے طور پر دیکھا جارہا ہے، جہاں انہوں نے کئی دہائیوں تک ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت میں اہم کردار ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کی شبیہ کو بچانے کیلئے سونے کے ذخائر فروخت کئے جارہے ہیں، ملکارجن کھڑگے
کانگریس صدر نے کہا کہ گرتا ہوا روپیہ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ہندوستان سے سرمایہ نکالنا، صنعتوں اور کمپنیوں کا بند ہونا ایسے حقائق ہیں جو معیشت کی کمزور ہوتی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے مبینہ طور پر گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران تقریباً 12 بلین امریکی ڈالر (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپے) مالیت کا سونا فروخت کئے جانے کی خبروں پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت روپے کی گرتی ہوئی قدر کو روکنے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی شبیہ کو بچانے کے لئے ملک کے سونے کے ذخائر فروخت کر رہی ہے۔ کانگریس صدر نے اپنے آفیشیل ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ جاری کر کہا کہ مودی حکومت سے روپیہ سنبھالا نہیں جا رہا ہے اور صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کسی بھی وقت ایک امریکی ڈالر کی قیمت 100 روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
اسی خدشے کے باعث حکومت اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ مودی کو اپنی شبیہ کی فکر ستا رہی ہے، اسی لئے آر بی آئی سے کہہ کر ملک کا سونا فروخت کروایا جا رہا ہے تاکہ روپیہ 100 روپے فی ڈالر کی حد عبور نہ کر جائے۔ انہوں نے کہا کہ صرف 2 ہفتوں کے اندر آر بی آئی نے تقریباً 12 بلین ڈالر مالیت کا سونا فروخت کر دیا ہے، جو ہندوستانی کرنسی میں تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپے کے برابر بنتا ہے۔ کھڑگے کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات وزیر اعظم کی "فرضی شبیہ" کو بچانے کے لئے کئے جا رہے ہیں، لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے کیونکہ ملک کی عوام حقیقت سے واقف ہو چکی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں نے ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اپنی تنقید کو مزید تیز کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ گرتا ہوا روپیہ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ہندوستان سے سرمایہ نکالنا، صنعتوں اور کمپنیوں کا بند ہونا اور روزگار کے مواقع میں کمی ایسے حقائق ہیں جو معیشت کی کمزور ہوتی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مسائل محض شروعات ہیں اور آنے والے دنوں میں حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ کھڑگے نے اپنے بیان کے اختتام پر مودی حکومت پر سخت سیاسی حملہ کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ مودی ہے تو ملک برباد ہے۔