ٹرمپ کا میئر نیویارک کیلئے اینڈریو کومو کی حمایت کا اعلان، ممدانی کی جیت پر فنڈز کی کٹوتی کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق گورنر اینڈریو کومو کی نیویارک سٹی کے میئر کے طور پر حمایت کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ اگر ڈیموکریٹک امیدوار زہران ممدانی میئر کا الیکشن جیت گئے تو وہ شہر کے وفاقی فنڈز روک سکتے ہیں۔
ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو نیویارک کے میئر کے انتخاب پر اکثر تبصرہ کرتے رہے ہیں، نے جماعتی حد پار کرتے ہوئے کومو کی حمایت کرکے انتخابی مہم میں مزید مداخلت کی، انہوں نے ممدانی اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا دونوں کے مقابلے میں کومو کا ساتھ دیا، سلیوا ایک بڑے ڈیموکریٹک شہر میں عوامی سرویز میں کافی پیچھے ہیں۔
مائیک کومو، جو طویل عرصے سے ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر رہنما رہے ہیں، ممدانی کے ہاتھوں ڈیموکریٹک پرائمری میں شکست کے بعد بطور آزاد امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔
منگل کو ہونے والا نیویارک سٹی کا انتخاب قومی سطح پر بڑی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ ٹرمپ کی مخالفت کے تناظر میں اسے خاص طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کی مستقبل کی سمت کے تعین میں اہم سمجھا جا رہا ہے ۔
خود کو ’ڈیموکریٹک سوشلسٹ‘ کہنے والے 34 سالہ زہران ممدانی سروے میں کومو سے آگے ہیں، انہوں نے نوجوان اور ترقی پسند ووٹرز کو متحرک کیا ہے لیکن اس سے پارٹی کے معتدل طبقے میں تشویش پیدا ہوئی ہے کہ کہیں پارٹی بہت زیادہ بائیں بازو کی طرف نہ چلی جائے۔
ریپبلکنز نے ممدانی پر انتخابی مہم کے دوران سخت تنقید کی ہے، اور ٹرمپ نے انہیں ’کمیونسٹ امیدوار‘ قرار دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’چاہے آپ کو اینڈریو کومو پسند ہوں یا نہیں، آپ کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں، آپ کو انہیں ووٹ دینا چاہیے اور امید کرنی چاہیے کہ وہ بہترین کام کریں گے، وہ اس کے قابل ہیں، ممدانی نہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر کمیونسٹ امیدوار زہران ممدانی نیویارک سٹی کے میئر کے الیکشن میں جیت جاتے ہیں تو یہ بہت مشکل ہوگا کہ میں کم ازکم درکار فنڈز کے علاوہ اپنے پہلے پیارے گھر کے لیے وفاقی فنڈز فراہم کروں‘۔
نیویارک ریاست کے کمپٹرولر کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت مالی سال 2026 میں نیویارک سٹی کو 7.
ٹرمپ اپنی دوسری مدت صدارت میں ماحولیاتی پالیسیوں، ٹرانس جینڈر حقوق، اسرائیل کے خلاف فلسطین کے حق میں مظاہروں، اور نسلی مساوات کی پالیسیوں پر وفاقی فنڈز میں کٹوتی کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔
یوگنڈا نژاد ریاستی اسمبلی کے رکن زہران ممدانی نے 24 جون کو ہونے والے ڈیموکریٹک پرائمری میں حیران کن کامیابی حاصل کی تھی۔
زہران ممدانی نے اپنی انتخابی مہم میں نیویارک کے عوام کو ایسے روایتی سیاستدانوں کے خلاف منظم کیا ہے جیسے اینڈریو کومو، جو تین بار نیویارک کے گورنر منتخب ہوئے لیکن 2021 میں جنسی ہراسانی کے الزامات پر استعفیٰ دے دیا۔
امریکی محکمہ انصاف کی تحقیقات میں بھی یہ نتیجہ نکلا کہ اینڈریو کومو نے کم از کم 13 خواتین سرکاری ملازماؤں کے لیے جنسی طور پر ہراساں کرنے والا ماحول پیدا کیا۔
زہران ممدانی نے ٹرمپ کی جانب سے اینڈریو کومو کی حمایت کے بعد ایک ریلی میں کہا کہ ’امریکا کو دوبارہ عظیم بناؤ تحریک کا اینڈریو کومو سے اتحاد ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سوچ کو ظاہر کرتا ہے کہ وہی میئر ان کے لیے سب سے موزوں ہوگا، وہ دونوں ایک جیسے ڈونرز، ایک جیسا محدود وژن اور ایک جیسی بے خوفی رکھتے ہیں‘۔
زہران ممدانی کے منشور میں نیویارک کے امیر ترین طبقے پر ٹیکس میں اضافہ، کارپوریشن ٹیکس کی شرح بڑھانا، کرایہ منجمد کرنا اور سرکاری مالی امداد سے ہاؤسنگ کے منصوبے بڑھانا شامل ہیں۔
ان کا سیاسی ابھار ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے امکانات اور خطرات دونوں رکھتا ہے، کیونکہ ایک طرف وہ نوجوان ووٹرز کو متوجہ کر رہے ہیں، تو دوسری جانب اسرائیل کے قبضے کے خلاف ان کے مؤقف اور ان کے سوشلسٹ نظریات نے وال اسٹریٹ اور کاروباری طبقے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اینڈریو کومو نیویارک سٹی ڈونلڈ ٹرمپ نیویارک کے کومو کی رہے ہیں کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔