ٹرمپ نے ظہران ممدانی کے جیتنے پر نیویارک کی فنڈنگ میں کٹوتی کی دھمکی دیدی
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز دھمکی دی ہے کہ اگر ظہران ممدانی نیویارک کے میئر کے انتخاب میں 4 نومبر کو کامیاب ہوگئے تو وہ شہر کی وفاقی فنڈنگ میں کمی کر دیں گے۔
انہوں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ انتخابات میں آزاد امیدوار اور سابق گورنر اینڈریو کومو کی حمایت کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے نیو یارک کے امیدوار برائے میئرشپ ظہران ممدانی کو ’کمیونسٹ پاگل‘ قرار دیدیا
صدر ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کردہ پیغام میں کہا ہے کہ اگر ڈیموکریٹک امیدوار ممدانی منگل کے روز نیویارک سٹی کے میئر کا انتخاب جیت جاتے ہیں، تو یہ انتہائی غیر ممکن ہے کہ میں وفاقی فنڈز فراہم کروں، سوائے ان رقوم کے جو قانوناً دینا لازم ہیں۔
“If communist candidate Zohran Mamdani wins the election for mayor of New York City, it is highly unlikely that I will be contributing federal funds, other than the very minimum as required, to my beloved first home.
US President Donald Trump pic.twitter.com/Fa24LVpTEo
— Rita Rosenfeld (@rheytah) November 4, 2025
ٹرمپ انتظامیہ پہلے بھی ڈیموکریٹک اکثریت والے علاقوں میں جاری منصوبوں کے لیے وفاقی فنڈز اور گرانٹس میں کمی کی کوشش کرتی رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیویارک سٹی کے میئر کے انتخاب میں ظہران ممدانی کو اپنے حریف اینڈریو کومو پر برتری حاصل ہے، جو ڈیموکریٹک پرائمری میں ممدانی سے شکست کے بعد اب آزاد حیثیت میں میدان میں ہیں، جبکہ ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا تیسرے نمبر پر ہیں۔
مزید پڑھیں:نیویارک کے میئر امیدوار ظہران ممدانی کو ابتدائی جیت کے بعد اسلاموفوبیا کا سامنا
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ریپبلکن امیدوار سلیوا کو ووٹ دینا دراصل ممدانی کے حق میں ووٹ دینے کے مترادف ہوگا، اس لیے ان کے حامی اینڈریو کومو کی حمایت کریں۔
’یہ یاد رکھیں، کرٹس سلیوا (جو بغیر بیریٹ کے زیادہ بہتر لگتے ہیں!) کو ووٹ دینا ممدانی کو ووٹ دینے کے برابر ہے۔ چاہے آپ کومو کو پسند کریں یا نہیں، آپ کے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔‘
مزید پڑھیں: اسرائیل غزہ جنگ کی کوریج میں دوہرا معیار، ظہران ممدانی بی بی سی پر برس پڑے
صدر ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے اینڈریو کومو کو ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ امید رکھنی چاہیے کہ وہ اچھا کام کریں گے۔ وہ قابل ہیں، ممدانی نہیں۔
ریپبلکن رہنما مسلسل ممدانی کی امیدواری پر تنقید کر رہے ہیں۔ کچھ رہنماؤں نے ان کی شہریت کی تحقیقات اور انہیں امریکا سے بےدخل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے خود ممدانی کو ’کمیونسٹ‘ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں:’بات نہیں مانی تو گرفتار کرلوں گا‘، ٹرمپ کی دھمکی پر ظہران ممدانی پھٹ پڑے
ٹی وی پروگرام سی بی ایس 60 منٹس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر نیویارک کو کوئی کمیونسٹ چلائے گا، تو میرے لیے اس شہر کو زیادہ فنڈ دینا مشکل ہوگا۔
’ممدانی کے میئر بننے کی صورت میں یہ پیسہ ضائع جائے گا۔‘
میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں مالی سال میں نیویارک سٹی کو وفاقی حکومت سے 7.4 ارب ڈالر کی فنڈنگ ملی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی صدر اینڈریو کومو ڈونلڈ ٹرمپ ڈیموکریٹک پرائمری صدر ٹرمپ ظہران ممدانی فنڈز کمیونسٹ[ نیویارک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی صدر اینڈریو کومو ڈونلڈ ٹرمپ ڈیموکریٹک پرائمری کمیونسٹ نیویارک اینڈریو کومو ممدانی کو کے میئر کو ووٹ
پڑھیں:
پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
پاسدارانِ انقلاب کے امریکا کی مدد کرنے پر برطانوی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے کے بعد برطانیہ کا بھی ردعمل سامنے آگیا ہے جس میں اُس نے کہا ہے کہ وہ اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بمبار طیاروں کو برطانیہ کے اڈوں سے پرواز کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی تھی جس کے بعد برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ اس کی مسلح افواج ملک کو کسی بھی حملے سے بچانے کے لیے تیار ہیں۔
حکومتی ترجمان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج برطانیہ کو کسی بھی قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہیں، چاہے وہ ہماری سرزمین پر ہو یا بیرون ملک سے۔ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے 24 گھنٹے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس میں رائل نیوی، برٹش آرمی اور رائل ایئر فورس کے اثاثوں کی طرف سے فراہم کردہ فضائی اور میزائل دفاع کے لیے ایک تہہ دار نقطہ نظر کو چلانا شامل ہے، جو ہمارے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کو گزشتہ ہفتے برطانیہ کے ایک موجودہ معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے پر مطلع کیا گیا تھا جس میں امریکا کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔