اسرائیل مذاکرات کی نہیں بلکہ صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے، حزب اللہ لبنان
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
حزب اللہ لبنان کے رکن پارلیمنٹ ایہاب حمادہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل صرف اور صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے لہذا اس سے کسی قیمت پر مذاکرات نہیں کیے جائیں گے جبکہ ہم گذشتہ برس انجام پانے والی جنگ بندی کی حمایت کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایک طرف گذشتہ چند دنوں میں علاقائی اور لبنانی ذرائع ابلاغ پر ایسی متعدد رپورٹس منظرعام پر آ چکی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ لبنان کو اسرائیل سے براہ راست مذاکرات شروع کرنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے اور حال ہی میں لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی اسرائیل سے مذاکرات کے بارے میں بات کی ہے جبکہ دوسری طرف حزب اللہ لبنان کے رکن پارلیمنٹ ایہاب حمادہ نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ کو کسی قسم کے مذاکرات کا فریم ورک فراہم نہیں کیا گیا اور گذشتہ برس لبنان حکومت نے غاصب صیہونی رژیم سے جنگ بندی کا جو معاہدہ کیا تھا حزب اللہ لبنان نے بھی اسے اسی صورت میں قبول کیا تھا لہذا اب کسی قسم کے نئے مذاکرات کی بات کرنا گذشتہ معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہو گا۔
کسی صورت اسرائیل سے مذاکرات نہیں کریں گے
لبنان کے رکن پارلیمنٹ اور حزب اللہ کی پارلیمانی پارٹی کے رہنما ایہاب حمادہ نے گذشتہ رات اسپوتنیک ریڈیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "گذشتہ برس انجام پانے والا جنگ بندی کا معاہدہ ایک قسم کے بالواسطہ مذاکرات کا نتیجہ تھا جو ثالث ممالک کی وساطت سے انجام پائے تھے۔ لہذا اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ لبنان سرکاری طور پر اپنے تمام اداروں کے ہمراہ اسرائیل سے براہ راست مذاکرات پر راضی ہے درست نہیں ہے۔" انہوں نے مزید کہا: "حزب اللہ کو مذاکرات کا کوئی فریم ورک مہیا نہیں کیا گیا اور ہم نے گذشتہ برس لبنان حکومت اور اسرائیل کے درمیان انجام پانے والے جنگ بندی معاہدے کو اسی شکل میں قبول کیا تھا کیونکہ وہ لبنان کے فائدے میں تھا۔ لہذا اب کسی اور فارمولے کی جانب بڑھنا گذشتہ فارمولے کو دھچکہ پہنچانے کے مترادف ہو گا۔" ایہاب حمادہ نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا: "ہمیں اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ لبنانی صدر جوزف عون پر پڑنے والے دباو کی شدت بہت زیادہ ہے اور ہمیں حقیقت پسندی سے مسائل حل کرنے ہیں۔ حزب اللہ کا موقف واضح ہے اور وہ یہ کہ ہم کسی صورت اسرائیل سے مذاکرات نہیں کریں گے۔"
اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے
ایہاب حمادہ نے کہا: "حتی اگر صورتحال بدل بھی جاتی ہے تو اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے اور ہمارے لئے دشمن کے ساتھ محاذ آرائی کی قیمت ہتھیار ڈالنے کی قیمت سے کہیں زیادہ کم ہے۔ غاصب صہیونی رژیم مقبوضہ فلسطین کے شمالی محاذ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ہماری سرحدوں پر ایک بفر زون بنانا چاہتی ہے۔" اسلامی مزاحمت کے نمائندے نے زور دے کر کہا: "جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کا منظرنامہ ایک پرانا اسرائیلی منصوبہ ہے۔ صہیونی رژیم نے قرارداد 1701 کو مکمل طور پر منسوخ کرنے کی کوشش کی ہے اور اس نے عملی طور پر ایسا ہی کیا ہے کیونکہ وہ اس کی کسی بھی شق کی تعمیل نہیں کرتا۔ غاصب صہیونی حکمران حزب اللہ لبنان کے دوبارہ طاقت پکڑ جانے کے امکان سے شدید خوفزدہ ہیں۔" انہوں نے گذشتہ کچھ دنوں میں انجام پانے والے مصری وفد کے دورہ لبنان کے بارے میں کہا: "مصری انٹیلی جنس وفد کے بیروت کے دورے سے پہلے اس وفد کے مقاصد کے بارے میں خبریں سامنے آئی تھیں جس سے اشارہ ملتا ہے کہ مصر کی طرف سے ڈھکے چھپے الفاظ میں اسٹریٹجک ہتھیاروں کے بارے میں بات چیت ہوئی ہے۔"
ایہاب حمادہ نے واضح کیا کہ حزب اللہ اور مصری وفد یا یہاں تک کہ سعودی وفد کے درمیان کوئی براہ راست ملاقات نہیں ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود سعودی عرب نے حزب اللہ کو اپنے سرکاری موقف سے آگاہ کر دیا گیا ہے جو سعودی عرب کی جانب سے سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان شیخ نعیم قاسم کی حالیہ تقریر کو مثبت قرار دینے پر مبنی ہے۔ آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں بیروت، واشنگٹن اور چند عرب ممالک میں ردوبدال ہونے والے پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ لبنان پر اسرائیل سے براہ راست مذاکرات کرنے کے لیے شدید دباو ڈال رہا ہے۔ الاخبار کے مطابق ذرائع نے بتایا: "امریکیوں نے لبنانی حکام اور دیگر لبنانی رہنماوں سے رابطوں میں دھمکی آمیز لہجے میں انہیں بتایا ہے کہ اسرائیلی حملے کو روکنے کا واحد راستہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیل کے ساتھ براہ راست سیاسی مذاکرات میں شامل ہونا ہے۔ امریکیوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان کا اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔" ان رپورٹس کے مطابق لبنانی حکام کے ساتھ ہر رابطے میں امریکیوں کا اصرار ہے کہ اسرائیل لبنان کے خلاف فوجی حملوں کو تیز کرنے کا سہارا لے رہا ہے جس کا مقصد حزب اللہ پر دباؤ ڈالنا اور اسے مزید رعایتیں دینے پر مجبور کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حزب اللہ لبنان کے بارے میں حزب اللہ کو اسرائیل سے انجام پانے براہ راست گذشتہ برس لبنان کے کہ لبنان ہے اور اور اس وفد کے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔