data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پڈعیدن (نمائندہ جسارت) صحافیوں کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا گیا لیکن اس کا کوئی آئین میں ذکر نہیں ہے اور ناہی صحافیوں کو آج تک کوئی آئینی تحفظ فراہم کیا گیا، قلم کے مزدور آج بھی بھوک اور افلاس کے باوجود مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں، میڈیا کو ادارہ جاتی تحفظ ملے گا تو آزادی صحافت مستحکم ہوگی۔ لالا اسد پٹھان میڈیا ہاؤس کے افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا تقریب کے مہمان خاص پی ایف یو جے کے مرکزی رہنما لالہ اسد پٹھان کے پنڈال پہنچنے پر گل پاشی کرکے شاندار استقبال کیا گیا میڈیا ہاؤس کے افتتاح کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری فنانس لالا اسد پٹھان نے کہا کہ پاکستان کا آئین بننے کے بعد وکلا برادری کو آئینی تحفظ ملا، جس کے تحت پاکستان بار کونسل اور سندھ بار کونسل کا قیام عمل میں آیا اور یہ قانونی طور پر بااختیار ادارے ہیں۔ اسی قانون کے مطابق کوئی وکیل یا گروہ الگ بار کونسل تشکیل نہیں دے سکتا۔ لیکن افسوس کہ صحافیوں کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا گیا لیکن اس کا کوئی آئین میں ذکر بھی نہیں ہے اور ناہی صحافیوں کو آج تک کوئی آئینی تحفظ فراہم کیا گیا۔ پی ایف یو جے کے مرکزی رہنما لالا اسد پٹھان نے میڈیا ہاؤس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت میڈیا کونسل قائم کرے اور صحافیوں کو آئینی و قانونی تحفظ فراہم کرے تو آج ایک ہی شہر میں درجنوں پریس کلب نہ ہوتے۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو اس لئے تقسیم کیا گیا کیونکہ ہم غریب عوام کے مسائل اٹھاتے ہیں، زیادتی کرنے والوں سے سوال کرتے ہیں اور انہیں عوامی عدالت کے سامنے بے نقاب کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیں منظم اور بااختیار ہونے سے روکا گیا۔ لالا اسد پٹھان نے مزید کہا کہ قلم کے مزدور آج بھی بھوک اور افلاس کے باوجود مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ صحافیوں کو متحد ہونا ہوگا، میڈیا کو ادارہ جاتی تحفظ ملے گا تو آزادی? صحافت مستحکم ہوگی۔ ہم نے ہمیشہ سچ کی قیمت ادا کی ہے اور آئندہ بھی عوام کے لئے آواز اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے میڈیا مالکان سے مطالبہ کیا کہ وہ قلم کاروں کو مناسب اجرت دیں اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو آئینی تحفظ فراہم کرے۔ انہوں نے سندھ جرنلسٹس پروٹیکشن بل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے ایک بااختیار کمیشن تو قائم کیا، مگر اس کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث یہ قانون بے اثر ثابت ہو رہا ہے، حتیٰ کہ کمیشن کے بلاوے پر پولیس سمیت متعلقہ ادارے بھی نہیں پہنچتے۔تقریب میں سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر سلیم سہتو جنرل سیکرٹری جاوید جتوئی، کاشف پھلپوٹو، نوید کھوڑو، طالب بھنبرو، طوطا خان ملاح و دیگر کی بھرپور شرکت۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: صحافیوں کو ا تحفظ فراہم کوئی ا ئین کیا گیا کہا کہ

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال