پنجاب حکومت کا اسموگ سے نمٹنے کے لیے بڑا فیصلہ، مارکیٹوں کے اوقات کار تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
پنجاب حکومت نے اسموگ اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مارکیٹوں کے مقررہ اوقات کار پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا فیصلہ کرلیا۔
مزید پڑھیں: پنجاب پولیس کا اسموگ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 24 گھنٹوں میں 28 مقدمات، 396 افراد پر جرمانے
حکومت نے ستمبر 2023 میں جاری کیے گئے نوٹیفکیشن پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
نوٹیفکیشن کے تحت مارکیٹیں پیر سے ہفتہ تک رات 10 بجے تک بند کی جائیں گی، جب کہ اتوار کے روز کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دوپہر 2 بجے سے رات 10 بجے تک ہوگی۔
’ریسٹورنٹس اور کیفے رات 11 بجے تک بند کیے جائیں گے، تاہم جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے دن ان کے اوقات میں ایک گھنٹے کا اضافہ ہوگا، اور یہ رات 12 بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔‘
مزید یہ کہ ہوم ڈیلیوری سروسز کو رات 2 بجے تک کام کرنے کی اجازت ہوگی۔
مزید پڑھیں: ملک بھر میں موسم خشک، پنجاب کے کئی علاقے اسموگ کی لپیٹ میں رہنے کا امکان
میڈیکل اسٹورز، دودھ کی دکانیں، تندور، اسپتال، لیبارٹریز، پیٹرول پمپس اور پنکچر شاپس کو ان اوقات کار سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسموگ بڑا فیصلہ پنجاب حکومت فضائی آلودگی مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسموگ بڑا فیصلہ پنجاب حکومت فضائی ا لودگی مریم نواز وی نیوز بجے تک
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔