مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
آئین وہ بنیادی دستاویز ہوتی ہے جو کسی بھی ملک کے نظم و نسق چلانے کی اساس ہوتی ہے۔ ملک کے تمام ادارے آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق وجود میں آتے ہیں اور اس کے مطابق اپنے اپنے فرائض آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ادا کرتے ہیں۔ دنیا کے تمام مہذب جمہوری ملکوں میں آئین کے تحت امور مملکت چلائے جاتے ہیں۔
آئین و قانون کا ہر صورت احترام کیا جاتا ہے، کسی ادارے، فرد یا سربراہ کی طرف سے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر آئین سے انحراف کا تصور بھی نہیں کیا جاتا۔ آئین تمام حالات میں مقدم اور مقدس خیال کیا جاتا ہے۔ آئینی و قانونی ماہرین بجا طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ آئین کے بغیر، ریاست، سیاست اور عدالت کا وجود ممکن نہیں اور آئین و قانون کے طریقہ کار سے باہر کا کوئی عمل قابل قبول نہیں ہوتا۔ وہ ہر صورت تنقید کی زد میں رہتا ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں آغاز ہی سے آئین کی تشکیل کا عمل زبوں حالی کا شکار رہا ۔
تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ آزادی کے بعد فوری طور پر آئین کی تشکیل کا کام کیا جانا چاہیے تھا تاکہ اول دن سے کاروبار سلطنت کو آئین کے تحت چلایا جاسکے لیکن آزادی حاصل کرنے کے 9 سال بعد تک آئین کی تشکیل کا کام تعطل کا بار بار شکار ہوتا رہا۔ بعض عاقبت نااندیش سیاسی زعما نے آپس کی کشمکش و رنجش کے باعث ملک کے عوام آئین و قانون کی فضا سے بے بہرہ رہے، ان کے حقوق کے آئینی و قانونی تحفظ کا کوئی وجود نہ تھا، عبوری احکامات سے ملک کا نظم و نسق چلایا جا رہا تھا۔
قیام پاکستان کے 9 سال بعد 23 مارچ 1956 کو ملک میں پہلے آئین کا نفاذ عمل میں آیا اور ملک میں پارلیمانی طرز حکومت رائج کیا گیا، لیکن محلاتی سازشوں کو سیاست دانوں کی آپس کی رنجشوں اور بیورو کریسی کے عمل دخل کے باعث 1956 کا آئین اپنی روح کے مطابق پوری طرح کامیابی سے پارلیمانی نظام کو تحفظ دینے میں ناکام رہا، جس کا فائدہ غیر سیاسی قوتوں نے اٹھایا اور 9 اکتوبر 1958 کو گورنر جنرل اسکندر مرزا نے ملک کے فوجی سربراہ جنرل ایوب خان کے مشورے سے آئین منسوخ کر دیا اور پورے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔
مرکزی و صوبائی اسمبلیوں کو توڑ کر حکومتیں ختم کر دی گئیں۔ جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا گیا۔ صرف 20 دن بعد ہی جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو برطرف کر کے عہدہ صدارت بھی خود سنبھال لیا، یوں ملک میں قائد اعظم کے جمہوری نظام کا خاتمہ کرکے پہلی مرتبہ غیر جمہوری قوتوں نے اقتدار پر مکمل قبضہ اور کنٹرول حاصل کر لیا۔ ایوب نے خان بوڈو اور ایبڈو قانون کے تحت نامور سیاستدانوں کو میدان سیاست سے باہرکردیا اور یکم مارچ 1962 کو ملک میں نیا آئین نافذ کرایا، لیکن یہ ملک کے دونوں حصوں یعنی مشرقی اور مغربی پاکستان کو جوڑے رکھنے میں ناکام رہا۔ آمریت سے مشرقی پاکستان کے عوام نالاں تھے۔
بنگال کے لیڈر شیخ مجیب الرحمن کے چھے نکات نے عوام میں منفی جذبات کو ہوا دی اور مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت کی چنگاریاں شعلہ بننے لگیں۔ ایوب خان کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ پھر جنرل یحییٰ خان نے ان کی جگہ صدارت سنبھال لی لیکن وہ بھی حالات سنبھالنے میں ناکام رہے اور اس کا فائدہ دشمن ملک بھارت نے اٹھایا اور 1971 میں پاکستان پر حملہ کر کے ملک دولخت کر دیا۔ سقوط بنگال کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کا اقتدار سنبھالا، ان کا سب سے بڑا کارنامہ 1973 کا متفقہ آئین تھا جو آج بھی ملک کے پارلیمانی نظام کی اساس ہے، لیکن اس آئین میں اس قدر ترامیم کی گئی ہیں کہ اس کا بنیادی ڈھانچہ ڈگمگانے لگا ہے۔ جنرل ضیا الحق سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک اور نواز شریف سے لے کر آج تک 1973 کے آئین کو بار بار ترامیم کے کچوکے لگا کر بازیچہ اطفال بنا دیا گیا ہے، بدقسمتی یہ کہ ہماری عدالتیں بھی آئینی ترامیم اور اس کے سرپرستوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ’’نظریہ ضرورت‘‘ کا جواز فراہم کرتی رہیں۔ 26 ویں آئینی ترمیم اس کی تازہ مثال ہے ۔
پی پی پی اور (ن) لیگ کی حکومت نے کس طرح جبری طور پر پارلیمان سے 26 ویں ترمیم رات کے اندھیرے میں منظور کرائی، سب جانتے ہیں اپوزیشن آج بھی سراپا احتجاج ہے۔ اب 27 ویں ترمیم کا ڈول ڈالا جا رہا ہے۔ آج بھی اپوزیشن اتحاد 27 ویں ترمیم پر معترض ہے لیکن پی پی پی اور (ن) لیگ 27 ویں ترمیم کی منظوری پر بضد ہیں لیکن پوری قوم دیکھے گی کہ قومی مفاد کے نام پر 26 ویں ترمیم کی طرح ’’ایکشن ری پلے‘‘ کا مظاہرہ ہوگا اور 27 ویں ترمیم بھی دونوں ایوانوں سے منظور کرا لی جائے گی۔ اپوزیشن کا احتجاج رنگ لاتا نظر نہیں آ رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویں ترمیم ایوب خان ملک میں ملک کے کر دیا
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین