نارتھ ناظم آباد میں معروف ‘‘کیفے پیالہ’’ ہوٹل سیل
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ضلع وسطی کے علاقے گلبرگ نارتھ ناظم آباد لنڈی کوتل گجر نالے کے قریب واقع شہر کے مشہورکیفے پیالہ کے نام سے قائم دو چائے کے ہوٹلوں کو اسسٹنٹ کمشنر ہمایر احمد نے کارروائی کرتے ہوئے سربمہر کر دیا۔ کارروائی صفائی کے ناقص انتظامات، تجاوزات اور ہوٹل کے باہر غیرقانونی طور پر کرسیاں اور ٹیبلیں رکھنے کے الزام پر عمل میں لائی گئی۔ یہ دونوں ہوٹل شہرِ قائد میں اپنی مخصوص چائے کے پیالے، لچھے دار اور پوری پراٹھے کے لیے خاص شہرت رکھتے تھے۔ صبح کے اوقات میں بڑی تعداد میں مزدور پیشہ افراد یہاں چائے اور ناشتہ کر کے روزگار کی تلاش میں نکلتے تھے جبکہ رات گئے تک نوجوانوں کے گروپ اور فیملیز یہاں بیٹھک لگاتے اور چائے و پراٹھے سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق یہ ہوٹل ناصرف شہری ثقافت کا حصہ بن چکے تھے بلکہ رات کے اوقات میں مقامی سطح پرچھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے افراد کے لیے بھی معاشی سرگرمیوں کا ذریعہ تھے تاہم اسسٹنٹ کمشنر ہمایر احمد کا کہنا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ نے متعدد بار صفائی کے معیار اور تجاوزات ہٹانے کے نوٹسز کے باوجود اصلاح نہ کی جس کے بعد قانونی کارروائی ناگزیر ہوگئی۔ کارروائی کے دوران ہوٹلوں سے استعمال شدہ تیل، گندگی اور غیر معیاری خوراک کے شواہد بھی ملے جنہیں فوڈ اتھارٹی کے حوالے کیا گیا ہے۔ مقامی دکانداروں اور شہریوں نے مؤقف دیا کہ اگرچہ صفائی اور قانون پر عمل ضروری ہے مگر انتظامیہ کو چاہیے کہ ایسے اقدامات سے پہلے متبادل حل یا انتباہی نظام فراہم کرے تاکہ عام شہری اور محنت کش طبقہ متاثر نہ ہو۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شہر بھر میں فوڈ سیفٹی اور تجاوزات کے خلاف مہم جاری رہے گی اور کسی بھی ہوٹل، ریستوران یا کیفے کو عوامی صحت و صفائی کے اصولوں کی خلاف ورزی پر رعایت نہیں دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔