پارلیمنٹ ہاؤس سے سی ڈی اے اسٹاف کو نکالنے کی خبریں بے بنیاد ہیں، ترجمان قومی اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے سے سی ڈی اے کے تمام اسٹاف کو نکالنے سے متعلق خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈائمنڈ گراؤنڈ کی خستہ حالی پر شاہد آفریدی کی توجہ کام آگئی، سی ڈی اے کام شروع کروا دیا
ترجمان کے مطابق صرف سی ڈی اے کے صفائی والے عملے کو پارلیمنٹ ہاؤس سے ہٹایا گیا ہے جب کہ دیگر افسران اور عملہ اپنی ذمہ داریاں معمول کے مطابق انجام دے رہا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ سی ڈی اے کے صفائی والے اسٹاف کی اکثریت بارہا غیر حاضر رہتی تھی، جس پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے یہ معاملہ قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کو بھیج دیا تھا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں آوارہ کتوں کے خلاف سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی کارروائیاں تیز
فنانس کمیٹی نے غور و خوض کے بعد سی ڈی اے کے جنیٹوریل (صفائی) اسٹاف کو ہٹا کر صفائی کے نظام کے لیے اوپن ٹینڈر کے ذریعے نئی فرم مقرر کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا۔ترجمان کے مطابق فنانس کمیٹی میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی نمائندگی موجود تھی اور فیصلہ اتفاقِ رائے سے کیا گیا۔
اوپن ٹینڈر کے عمل میں 13 فرموں نے حصہ لیا جن میں سے کامیاب فرم پہلے سے متعدد سرکاری اداروں میں بھی خدمات انجام دے رہی ہے۔
ترجمان قومی اسمبلی نے مزید بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ سے سالانہ 10 کروڑ روپے کی بچت ممکن ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پارلیمنٹ ہاؤس سی ڈی اے سی ڈی اے جنیٹوریل اسٹاف سی ڈے اے سینیٹیشن اسٹاف قومی اسمبلی سیکریٹریٹ ترجمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پارلیمنٹ ہاؤس سی ڈی اے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ ترجمان پارلیمنٹ ہاؤس قومی اسمبلی سی ڈی اے کے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔