آج ایک اور ملک ابراہم معاہدے میں شامل ہونے جا رہا ہے، اسٹیو وٹکوف
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کا کہنا ہے کہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دوران باضابطہ طور پر اعلان کریں گے کہ ان کا ملک ابراہام معاہدے میں شامل ہو رہا ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیل اور قازقستان کے درمیان سفارتی تعلقات 1992ء سے قائم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ آج رات ایک اور ملک "ابراہام معاہدے" میں شامل ہونے کا اعلان کرے گا، جس کے تحت اسرائیل اور مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لایا جا رہا ہے۔ اسٹیو وٹکوف نے امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک کاروباری فورم سے خطاب کے دوران کہا کہ وہ اس اعلان کے لیے واشنگٹن واپس جا رہے ہیں، تاہم انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ یہ کون سا ملک ہوگا۔ ابراہم معاہدے اسرائیل اور مسلم ممالک کے درمیان تعلقات کے قیام سے متعلق ہیں۔
یہ معاہدہ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں طے پایا تھا، جس کے تحت اسرائیل 4 مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر لانے میں کامیاب ہوا تھا۔ دوسری جانب امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کا کہنا ہے کہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دوران باضابطہ طور پر اعلان کریں گے کہ ان کا ملک ابراہام معاہدے میں شامل ہو رہا ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیل اور قازقستان کے درمیان سفارتی تعلقات 1992ء سے قائم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قازقستان کے اسرائیل اور کے درمیان رہا ہے
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔