Jasarat News:
2026-06-03@02:23:32 GMT

آپ کا گھر

اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دین کا صحیح شعور ہو یا نہ ہو‘ تاہم یہ حقیقت ہے کہ خواتین میں دینی احساس مردوں کے مقابلے کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔ میلاد کی محفلیں‘ نعت خوانی کی مجلسیں‘ نذر ونیاز‘ تیجا‘ چالیسواں‘ نوحہ خوانی‘ یہ سب دراصل خواتین ہی کے دم سے قائم ہیں اور مسلمان معاشروں میں ان کے چرچے خواتین ہی کی بدولت ہیں۔ یہی خواتین اگر دین کا صحیح شعور حاصل کرلیں‘ قرآن و سنت کی صحیح تعلیم سے واقف ہوجائیں‘ دین کے صحیح تصور اور صحیح فہم سے آشنا ہوجائیں اور انھیں واقعی یہ احساس ہوجائے کہ وہ بھی خیراُمت کا حصہ ہیں‘ تو ہمارے گھروں کی فضا‘ خاندانوں کے حالات اور معاشرے کے طورطریق سب بدل جائیں۔
خدا کی کتاب کا یہ خطاب کہ: ”مسلمانو! تم خیر اُمت ہو‘ تمھیں لوگوں کی فلاح و ہدایت کے لیے اٹھایا گیا ہے‘ تم نیکیوں کا حکم دیتے ہو‘ برائیوں سے روکتے ہو اور تم واقعی خدا پر ایمان رکھتے ہو“۔۔۔ یقیناً تمام مسلمانوں سے ہے۔ یہ خطاب صرف مردوں سے نہیں عورتوں سے بھی ہے۔ لازمی طور پر خواتین بھی اس حکم کی پابند ہیں‘ وہ بھی دین کی نمائندہ اور دین کی ترجمان ہیں اور دین کی دعوت و تبلیغ ان کا بھی دینی فریضہ ہے۔ بے شک ہر وہ خاتون جو خدا پر ایمان رکھتی ہے اس کا یہ فرض ہے ہ اپنے حلقۂ کار میں دین ِاسلام کی تبلیغ کرے۔ اپنے محرم مردوں کو دین سمجھنے اور دین پر عمل کرنے کی تلقین کرے اور خواتین میں عمومی حیثیت سے دین کی اشاعت کے لیے جدوجہد کرے۔ اگر خواتین میں اپنے منصب کا یہ احساس بیدار ہوجائے تو گھروں میں اسلامی زندگی اور اسلامی روایات و تہذیب کا چرچا رہے‘ اسلامی تعلیمات تازہ رہیں‘ اور ہمارے گھر واقعی اسلام کے لیے فداکار سپاہی تیار کرنے کا مدرسہ بن جائیں۔

مغربی تہذیب کے زبردست غلبے نے اور پھر موجودہ تعلیم و تربیت نے دین سے دُوری اور بے گانگی کی عام فضا پیدا کردی ہے۔ اس بے دینی اور جاہلیت کا مقابلہ اگر کیا جاسکتا ہے تو صرف اس طرح کہ ہم اپنے گھروں کی طرف توجہ دیں‘ گھر میں ایسا ماحول پیدا کریں کہ ہماری خواتین دین کو سمجھنے‘ دین کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالنے‘ دین کی روشنی میں اپنے گھر کے ماحول کو سدھارنے اور دین ہی کے مطابق بچوں کی تربیت اور پرورش کرنے کو اپنی زندگی کا سب سے عزیز مقصد سمجھنے لگیں۔ گھروں میں دینی فضا قائم رکھنے کا اہتمام اور بچوں کو دین کے مطابق اٹھانے کا اہم کام خواتین ہی انجام دے سکتی ہیں۔
دورِ سابق میں جب اسلامی تعلیمات کا چرچا تھا‘ عورتیں شروع ہی سے بچوں میں اسلام کی رغبت پیدا کردیتی تھیں۔ بچے دین کی معلومات اور دینی عبادات میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ قرآن پاک پڑھنے پڑھانے کا عام چرچا تھا۔ بچوں کو عام طور پر دعائیں یاد ہوتی تھیں: سوتے وقت کی دعا‘ اُٹھتے وقت کی دعا‘ مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا‘ مسجد سے نکلتے وقت کی دعا‘ کھانا شروع کرتے وقت کی دعا‘ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد کی دعا‘ پھل کھاتے وقت کی دعا‘ نیا لباس پہنتے وقت کی دعا‘ آئینہ دیکھتے وقت کی دعا‘ غرض بچوں کو یہ دعائیں اس طرح یاد ہوتی تھیں کہ وہ شوق اور دل بستگی کے ساتھ ان کو رٹتے رہتے تھے اور یہ معمولی بات نہ تھی۔ دراصل ان سادہ لوح بچوں کے پاک ذہنوں میں اس وقت جو نقوش ثبت ہوجاتے تھے ان کی آئندہ زندگی انھی نقوش کی آئینہ دار ہوتی تھی اور یہ زندگیاں اسی لیے اسلام کا پیکر ہوتی تھیں۔

ماں کی محبت بھری گود میں بیٹھ کر جو کچھ وہ رٹ لیا کرتے تھے‘ پھر زندگی بھر اُسے کبھی نہ بھولتے تھے۔ انھی بنیادوں پر ان کی زندگیاں استوار ہوتی تھیں‘ پھر نہ انگلستان کی فضا اُنھیں بدل سکتی تھی‘ نہ زمستانی ہوائیں ان پر اثر کرتی تھیں‘ اور نہ کوئی خوف اور لالچ ان پر اثرانداز ہوسکتا تھا۔ وہ جہاں رہتے تھے دین کے دردمند اور دین کے داعی اور حامی بن کر رہتے تھے۔ تاریخ اسلامی کی جن عظیم ہستیوں پر ہم فخر کرتے ہیں اور ان کے کارناموں کو یاد کرکے سردُھنتے ہیں وہ دراصل کارنامے ہیں ان گودوں کے جن میں یہ عظیم ہستیاں پل کر جوان ہوئی تھیں۔ اگر آپ اپنی تاریخ دُہرانا چاہتے ہیں اور اپنی عظمت رفتہ کو آواز دینا چاہتے ہیں‘ تو ضرورت ہے کہ آپ ایسی گودیں مہیا کرنے کے لیے کوشش و کاوش کریں۔ اگر ہم واقعی یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ بنے اور ہمارے سماج میں اسلامی اقدارو روایات کا چرچا ہو‘ ہر طرف اسلامی روایات اور تعلیمات کا تذکرہ ہو‘ تو اس کا کامیاب طریقہ یہی ہے کہ ہم اپنی عورتوں میں دین کا شعور پیدا کریں۔ گھر کے ماحول کو دین کے لیے سازگار بنائیں اور اپنی خواتین کو متوجہ کریں کہ وہ اپنے گھروں کو دین کا مدرسہ بنائیں۔ اگر ہمارے گھر دین کا مدرسہ بن جائیں تو پھر باہر کا ماحول ہمارے گھروں میں ہرگز کوئی انقلاب لانے کی جرأت نہ کرسکے گا‘ بلکہ گھر کی یہ فضائیں باہر کے ماحول میں خوش گوار انقلاب لائیں گی اور اس انقلاب کا مقابلہ آسان نہ ہوگا۔

گھر کے ماحول پر سب سے زیادہ جو چیز اثرانداز ہوتی ہے‘ وہ ایک نیک دل‘ وفاشعار‘ دردمند‘ عالی حوصلہ اور دین دار خاتون کا اعلیٰ کردار اور پاکیزہ سیرت ہی ہوتی ہے۔ خواتین کی مدد اورتعاون کے بغیر نہ گھر کے ماحول میں سدھار آسکتا ہے اور نہ باہر کی فضا میں کوئی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ کوئی ایسا خوش گوار پاکیزہ انقلاب جس کی جڑیں بہت مضبوط ہوں اور جو واقعی انسانوں کے قلب و دماغ کو بدل سکے، اسی وقت لایا جاسکتا ہے جب خواتین اس کی داعی بن جائیں اور وہ اپنے شب وروز اس کے لیے وقف کردیں۔
گھروں میں اسلامی تعلیم کی آسان کتابیں ضرور رکھیے۔ ان کے پڑھنے پڑھانے کا اہتمام کیجیے۔ قرآن پاک کی تفسیر و ترجمے‘ حدیثِ رسولؐ کے ترجمے‘ دعاؤں کی کتابیں اور اسلام کی بنیادی تعلیمات سے متعلق کتابیں ضرور گھروالوں کے لیے فراہم کیجیے۔ پھر اپنے اوقات میں سے کچھ وقت ضرور فارغ کیجیے کہ گھر کے سارے افراد بیٹھ کر اجتماعی طور پر کچھ مطالعہ کریں‘ غور وفکر کریں‘ تبادلۂ خیال کریں‘ اور پھر یہ کوشش بھی کریں کہ دین کا جو علم و شعور حاصل ہوتا جائے اس کے مطابق دھیرے دھیرے زندگیوں میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے۔ تھوڑے ہی عرصے میں آپ دیکھیں گے کہ آپ کے گھر کی فضا بدلی ہوئی ہے۔ اور یقین کیجیے کہ اس سے بڑی نعمت اور کوئی نہیں ہے کہ آپ کے گھر اسلامی زندگی کا حسین نمونہ بن جائیں۔ اور آپ کے گھر والے اسلام کے داعی اور نمائندہ بن کر زندگی گزارنے لگیں۔

محمد یوسف اصلاحیؒ گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گھر کے ماحول وقت کی دعا ہوتی تھیں گھروں میں ہمارے گھر میں اسلام کے مطابق اور دین ہیں اور کو دین دین کا دین کے کی فضا کے لیے دین کی

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق