سندھ اور رومانیہ کے درمیان تجارتی تعلقات بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
حکومت سندھ اور رومانیہ کے درمیان تجارتی تعلقات اور تعلیم کے شعبے میں اسکالرشپ پروگرام میں مل کر کام کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوینسکو کی ملاقات ہوئی جس میں سفیر رومانیہ کے وفد میں منسٹر رومانیہ ایمبیسی ایڈورڈ پریڈا، وائس ویزا کاؤنسلر کرسٹین اسٹیلین کوروما اور دیگر شریک تھے۔
پاکستان رومانیہ بزنس کونسل کے چیئرمین سہیل شمیم فیروپو اور پاکستان رومانیہ بزنس کونسل کے سی ای او عاطف فاروقی بھی وفد میں ملاقات میں شریک ہوئے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے رومانیہ کے سفیر اور وفد کا خیرمقدم کیا جبکہ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سید مراد علی شاہ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ سندھ میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ کراچی بندرگاہ عالمی تجارت کا اہم مرکز ہے، کراچی پورٹ میں سرمایہ کاری کے بے شمار فوائد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے تعلیمی مواقع بڑھانا ہماری ترجیح ہے۔ زرعی و ثقافتی شعبوں میں باہمی تعاون سے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ اسی طرح ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی تصاویر کی نمائش کے بھی منتظر بھی رہیں گے۔
دوسری جانب سفیر رومانیہ کا کہنا تھا کہ رومانیہ کی بندرگاہ پورے یورپ کے لیے اہم گیٹ وے ہے، رومانیہ کی بندرگاہ کے ذریعے یورپ کے 450 ملین افراد کو رسائی حاصل ہوتی ہے۔ ہم شہید ذوالفقار بھٹو کی نایاب تصاویر کی نمائش بھی کریں گے جو ہمارے پاس موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رومانیہ کے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔