WE News:
2026-07-24@05:35:57 GMT

اسٹیٹ بینک نے 5.8 کھرب روپے کا نیلامی منصوبہ جاری کر دیا

اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT

اسٹیٹ بینک نے 5.8 کھرب روپے کا نیلامی منصوبہ جاری کر دیا

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نومبر 2025 سے جنوری 2026 کے دوران سرکاری سیکیورٹیز کی فروخت اور لیکویڈیٹی مینجمنٹ کے لیے 5.8 کھرب روپے سے زائد مالیت کا جامع نیلامی منصوبہ جاری کر دیا ہے۔ یہ اقدام بلند شرحِ سود اور محدود مالیاتی گنجائش کے ماحول میں لیکویڈیٹی کے توازن، مالیاتی ضروریات کی تکمیل اور زری استحکام برقرار رکھنے کی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے۔

ڈومیسٹک مارکیٹس اینڈ مانیٹری مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ (DMMD) کے مطابق، یہ منصوبہ مارکیٹ ٹریژری بلز (MTBs)، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs)، گورنمنٹ اجارہ سکوک (GIS) اور فلوٹنگ ریٹ PIBs کے بائی بیک آپریشن پر مشتمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 16 ملین ڈالر کا اضافہ

اسٹیٹ بینک 6نیلامیوں کے ذریعے 3.

6 کھرب روپے اکٹھا کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جو 12 نومبر، 26 نومبر، 10 دسمبر، 24 دسمبر، 7 جنوری اور 21 جنوری کو منعقد ہوں گی۔ یہ رقم 4.013 کھرب روپے کی میچور ہونے والی ادائیگیوں کے مقابلے میں حاصل کی جائے گی۔

سب سے بڑی نیلامی 11 دسمبر کو متوقع ہے، جس میں 800 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے بعد 650 ارب روپے (27 نومبر)، 600 ارب روپے (8 جنوری) اور 600 ارب روپے (22 جنوری) کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔

مدت کے لحاظ سے تقسیم یوں ہے:

ایک ماہ کے بلز: 600 ارب روپے

3ماہ کے بلز: 900 ارب روپے

6ماہ کے بلز: 950 ارب روپے

12ماہ کے بلز: 1.15 کھرب روپے

پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs) کے تحت اسٹیٹ بینک 1.7 کھرب روپے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جنہیں فکسڈ ریٹ اور فلوٹنگ ریٹ بانڈز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

3فکسڈ ریٹ PIB نیلامیاں 5 نومبر، 17 دسمبر اور 14 جنوری کو ہوں گی، جن کا مجموعی ہدف 1.2 کھرب روپے ہے۔ ان پر 10.50 فیصد سے 11.50 فیصد تک شرح منافع مقرر کی گئی ہے، جس کی میعاد 2 سے 15 سال تک ہوگی۔

اسی طرح، فلوٹنگ ریٹ PIBs کی 6 نیلامیاں بھی انہی تاریخوں پر ہوں گی، جن کا مجموعی ہدف 500 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ ان بانڈز پر نصف سالہ کوپن ریٹ 10.8974 فیصد ہوگا۔

ثانوی مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کو منظم رکھنے کے لیے اسٹیٹ بینک 12 نومبر کو 200 ارب روپے کے فلوٹنگ ریٹ PIBs کا بائی بیک آپریشن کرے گا، جس کی ادائیگی 13 نومبر کو ہوگی۔ یہ آپریشن ان 4بانڈز پر محیط ہوگا جو 2028 سے 2029 کے درمیان میچور ہوں گے۔

علاوہ ازیں، اسٹیٹ بینک اسلامی بینکاری نظام میں لیکویڈیٹی کو سہارا دینے کے لیے بائی معجل (ادھار ادائیگی) کی بنیاد پر گورنمنٹ اجارہ سکوک (GIS) خریدے گا، جس کا مجموعی ہدف 275 ارب روپے ہے۔ اس ضمن میں 2نیلامیاں 26 نومبر اور 24 دسمبر کو ہوں گی۔

دوسری جانب، پاکستانی روپیہ انٹربینک مارکیٹ میں 0.03 روپے کے معمولی اضافے سے 280.82 روپے فی امریکی ڈالر پر بند ہوا، جبکہ سونے کی قیمت عالمی مارکیٹ میں اضافے کے باوجود 423,062 روپے فی تولہ پر مستحکم رہی۔

انٹرایکٹیو کموڈیٹیز کے ڈائریکٹر عدنان آغا کے مطابق، عالمی سونا اس وقت $3,910 سے $4,045 فی اونس کی حد میں تجارت کر رہا ہے۔ اگر قیمتیں $4,050 سے $4,080 کے اوپر بند ہوئیں تو اگلا ہدف $4,150 سے $4,200 تک جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی مالیاتی پالیسی کی غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ حکومتی شٹ ڈاؤن کے خدشات کے باعث سونے کے لیے مجموعی رجحان مثبت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹیٹ بینک آف پاکستان

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک ا ف پاکستان اسٹیٹ بینک کھرب روپے ارب روپے کے لیے ہوں گی کے بلز

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف