ڈی این اے تحقیق پر نوبل انعام جیتنے والے جیمس واٹسن چل بسے
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
جینیٹیکس سائنس میں نوبل انعام پانے والے سائنسدان جیمس واٹسن 97 برس کی عمر پر چل بسے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈی این اے کی ساخت کے حوالے سے نوبل انعام جیتنے والے امریکی سائنسدان جیمس واٹسن طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔
جیمس واٹسن کی موت کی تصدیق کولڈ اسپرنگ ہاربر لیبارٹری کے ترجمان نے کی ہے۔
جیمس واٹسن نے 1962ء میں نوبل انعام جیتا تھا۔
جیمس واٹسن نے اپنے موت سے قبل ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں کچھ اہم کام کرنا چاہتے تھے، وہ سچائی کی کھوج میں تھے اور یہی ان کے زندگی کا مقصد تھا۔
واٹسن کو 1953ء فرانسس کرک اور مورس ولکنز کے ساتھ ڈبل ہیلکس اسٹرکچر دریافت کرنے پر نوبل انعام کا شریک حقدار قرار دیا گیا تھا۔
نیچر نامی رسالے میں پہلی بار شائع ہونے والی ان کی تحقیق کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے جسے مالیکیولر بائیولوجی میں اہم پیشرفت قرار دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جیمس واٹسن
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔