چیٹ GPT ودیگر اے آئی پلیٹ فارمز سے متعلق پریشان کن انکشاف!
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
واشنگٹن (ویب ڈیسک )ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی جیسے مصنوعی ذہانت کے آلات کو صحیح اور غلط معلومات کے درمیان فرق کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ایک ٹیم نے ایک تحقیق میں تمام بڑے اے آئی چیٹ بوٹس کو مسلسل غلط خبر کی نشاندہی میں ناکام پایا۔
تحقیق لارج لینگوئج ماڈلز (ایل ایل ایمسز) کے استعمال سے متعلق قابلِ تشویش نتائج پیش کرتی ہے، جہاں صحیح اور غلط معلومات کا تعین کرنا اہم ہوتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ چونکہ لینگوئج ماڈلز (ایل ایمز) کا قانون، طب، صحافت اور سائنس میں استعمال بڑھتا جا رہا ہے، اس لیے ان کی حقیقت اور افسانے کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت اہم ہو جاتی ہے اور ایسا کرنے میں ناکامی ان کے بیماری کی تشخیص میں کوتاہی، قانونی فیصلوں میں مسائل اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کا سبب بن سکتی ہے۔
تحقیق میں 24 ایل ایل ایمز کا جائزہ لیا گیا جس میں سب کے سب صحیح اور غلط معلومات کے درمیان فرق کرنے میں ناکام رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔