گمراہ کُن خبروں کی آگ اور مصنوعی ذہانت کا ایندھن
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
گزرے سال میں برطانیہ کے شہروں میں ہنگامے ہوئے۔ یہ ہنگامے اچانک پیدا ہونے والا عوامی غصہ نہیں تھا۔ یہ سب جھوٹی معلومات کی ہولناک طاقت کا نتیجہ تھا۔ یہ وہی موضوع ہے جس پر شامی محقق عکرمہ کالو نے لکھا ہے۔
جولائی 2024 میں ایک جھوٹی خبر پھیلی۔ خبر یہ تھی کہ ایک غیر قانونی تارکِ وطن نے بچوں کو چاقو مارا ہے۔ دی گارڈین اخبار نے واضح کیا کہ اس جھوٹ کو مصنوعی ذہانت (AI) اور اس کے الگورتھمز نے پھیلانے میں دیگر ذرائع کے ساتھ بنیادی و اہم کردار ادا کیا ہے۔ AI (مصنوعی ذہانت) نے مسلم تارکینِ وطن کی جعلی ویڈیوز اور تصاویر بنائیں۔ ان کی وجہ سے اقلیتی املاک پر حملے ہوئے۔
رپورٹیں تصدیق کرتی ہیں کہ AI نے نفرت انگیز مواد کو تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان واقعات سے ثابت ہوا کہ AI اب صرف ایک مشین نہیں ہے۔ یہ ایک طاقت بن چکی ہے جو ہماری سوچ بدل رہی ہے۔
آپ کی اسکرین: ہماری مرضی یا AI کی؟
آج ہم جو کچھ بھی دیکھتے ہیں، اس میں ہماری مرضی کم ہوتی ہے۔ یہ الگورتھمز کی خواہش زیادہ ہوتی ہے۔ ہمارا ہر کلک، لائیک، اور دیکھنا AI (مصنوعی ذہانت ) کی خوراک بنتا ہے۔ یہ الگورتھمز ہی طے کرتے ہیں کہ ہمیں کیا نظر آئے گا۔ اس کو الگورتھم فیڈ کہتے ہیں۔ فیس بک اور یوٹیوب مواد کو وقت کے حساب سے نہیں دکھاتے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ آپ کس مواد سے جذباتی طور پر زیادہ جڑیں گے۔ ان کا مقصد آپ کو پلیٹ فارم پر زیادہ دیر قید رکھنا ہے۔ اس لیے وہ سب سے زیادہ متنازع اور جذباتی مواد آگے کرتے ہیں۔ اس طرح، AI ہماری سوچ کو آہستہ آہستہ تنگ کردیتی ہے۔ ChatGPT جیسے تخلیقی ٹولز بھی عام ڈیٹا کی بنیاد پر جواب دیتے ہیں۔ یوں، ہماری دنیا کا تصور ان کوڈز کے تابع ہو رہا ہے جن پر ہمارا کنٹرول نہیں رہا۔
فلٹر ببل: ایک بند دائرہ
کئی تحقیقات بتاتی ہیں کہ AI سسٹمز ایک ’’فلٹر ببل‘‘ (Filter Bubble) بنا دیتے ہیں۔ یہ معلوماتی قید کی طرح ہے۔ محقق ایلائی پیرائزر نے 2011 میں یہ تصور دیا۔ اس دائرے میں آپ کو صرف وہی معلومات ملتی ہے جو آپ کی پرانی سوچ سے ملتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، یہ دائرہ ہماری معلومات کو کم کردیتا ہے۔ اس سے ڈیجیٹل پولرائزیشن بڑھتی ہے۔ ہم مختلف خیالات سے محروم ہوجاتے ہیں۔ AI (مصنوعی ذہانت ) چپکے سے ہماری سوچ کو بدلتا ہے۔ وہ کوئی معلومات مسلط نہیں کرتا۔ وہ بس یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ہمیں کیا دکھانا ہے اور کیا چھپانا ہے۔
AI کی غیر جانبداری کا جھوٹ
عام خیال ہے کہ AI سسٹمز سچے اور غیر جانبدار ہوتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ ان کو انسانوں کے دیے ہوئے ڈیٹا پر سکھایا جاتا ہے۔ ڈیٹا کی بنیاد پر ان میں تعصب بھی آجاتا ہے۔ MIT کی تحقیق سے پتا چلا کہ چہرے کی شناخت کا نظام ہلکی جلد والے مردوں کو زیادہ آسانی سے پہچانتا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی نے بتایا کہ AI جذبات بھڑکانے والے مواد کو زیادہ دکھاتا ہے۔ یہ سارے ثبوت ایک بڑا سوال کھڑا کرتے ہیں: مصنوعی ذہانت کے زمانے میں ہماری سوچ کا مالک کون ہے؟
جھوٹا شعور: نقلی حقیقت
آج کا خطرہ صرف معلومات کی سمت بدلنا نہیں۔ اصل خطرہ معلومات پر ہمارا اعتماد ختم ہونا ہے۔ ہم ہر وقت اصلی اور نقلی میں فرق کرتے رہتے ہیں۔ ڈیپ فیک ٹیکنالوجیز اب جعلی آڈیوز، ویڈیوز اور تصاویر بناتی ہیں۔ عالمی فورم نے خبردار کیا ہے کہ Generative AI آنے والے برسوں میں گمراہ کن معلومات کا اہم ذریعہ بنے گا۔ جب ہم جھوٹے مواد کے عادی ہوتے ہیں تو ہم ’’منظر کا معاشرہ‘‘ بن جاتے ہیں۔ یہاں نقلی حقیقت اصلی سے مل جاتی ہے۔ اصل خطرہ AI (مصنوعی ذہانت ) کی چالاکی نہیں۔ یہ ہماری سستی و کاہلی ہے کہ ہم تصدیق نہیں کرتے۔ ایک طرح سے ہم اپنا پورا شعور الگورتھمز کے حوالے کرچکے ہیں۔
اپنی سوچ کو واپس لیں
مصنوعی ذہانت اب صرف مددگار نہیں، یہ ہماری سوچ کا ایک اور ذریعہ بن چکی ہے۔ علم کا کنٹرول ہمارے دماغ سے ڈیجیٹل سسٹمز کو منتقل ہوگیا ہے۔ اس انحصار سے ہماری آزاد سوچ کم ہورہی ہے۔ ہمارا شعور زیادہ شکار ہورہا ہے۔ AI سسٹمز حقیقت کو نہیں دکھاتے، وہ صرف توجہ حاصل کرنے کے اصول پر کام کرتے ہیں۔ حل ٹیکنالوجی سے دور بھاگنا نہیں۔ ہمیں تنقیدی سوچ کو واپس لانا ہوگا۔ ہمیں AI (مصنوعی ذہانت ) کی ہر تجویز پر سوال اٹھانا ہوگا۔ آج کا بڑا سوال یہ ہے: کیا ہماری سوچ واقعی ہماری اپنی ہے، یا وہ جو الگورتھمز نے ہمیں سکھائی ہے؟
(نوٹ: یہ مضمون محقق عکرمہ کالو کے شائع شدہ عربی بلاگ کا ترجمہ ہے، جس میں صرف تعارف اور اضافی وضاحتوں کے ذریعے حالاتِ حاضرہ کا سیاق و سباق شامل کیا گیا ہے۔ اس بلاگ میں پیش کی گئی بنیادی معلومات اور فکری ڈھانچہ عکرمہ کالو کی تحقیق پر مبنی ہے۔)
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت ہماری سوچ کرتے ہیں ہیں کہ سوچ کو
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔