بھارت ابھی تک پاکستان کیخلاف سازشوں میں مصروف ہے، عطا اللہ تارڑ WhatsAppFacebookTwitter 0 3 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس )وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بھارت ابھی تک پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ پاکستان نے دنیا بھر میں سفارتی کامیابیاں حاصل کی ہیں جسے پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔
اسلام آباد میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے لئے سفارتی محاذ پر کام کرنے والوں کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان کا فارن سروس سب سے بہترین ہے، ہماری فارن سروس کی عظیم روایات ہیں جن پر ہمیں فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ ہماری فارن سروس روایات کو بخوبی آگے بڑھا رہی ہے، سفارت کاری ایک فن ہے جو صرف سیکھنے سے نہیں بلکہ تجربے اور محنت سے آتا ہے، فارن سروس کے افسران نے ہمیشہ پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کیا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں، دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا، پاکستان پر دہشت گردی کو فروغ دینے کا جھوٹا الزام لگایا گیا، پہلگام واقعے کے فوری بعد پاکستان پر الزام عائد کردیا گیا، پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے بھارت کو پہلگام واقعہ کی آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی، دوست ممالک نے بھی پاکستان کے موقف کی تائید کی، سفارتی کوششوں کے باعث پوری دنیا سے ہمیں بھرپور حمایت ملی، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ہم نے اپنے سے چار گنا بڑی طاقت کو شکست فاش دی۔انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیشہ کی طرح جارحیت کا مرتکب رہا ہے، بھارت ابھی تک پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے، ہمارے کوسٹ گارڈز نے بھارت کے لئے جاسوسی کرنے والے ملاح کو گرفتار کیا ہے جس نے بھارتی ایجنسیوں کے ہاتھوں استعمال ہونے کی تمام کہانی دنیا کے سامنے سنائی۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ جب ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہماری مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ہم نے فتح حاصل کی، معرکہ حق میں ہماری فضائیہ کا کردار سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔انکا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب میں معاشی اسٹریٹجک فریم ورک کا اجرا انتہائی اہم پیشرفت ہے، اب ہمارا ہدف ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کا فروغ ہے، وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ مضبوط روابط اور تجارت کے لئے پاکستانی بندرگاہوں کا استعمال ہماری ترجیح ہے، ہم نے معاشی میدان میں نئی بلندیوں کو چھونا ہے، دوست ملکوں کے ساتھ اقتصادی و تجارتی روابط مزید مضبوط بنانے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرستائیسویں آئینی ترمیم کے مجوزہ ڈرافٹ کے اہم نکات سامنے آ گئے ستائیسویں آئینی ترمیم کے مجوزہ ڈرافٹ کے اہم نکات سامنے آ گئے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی انتخابی کامیابی کے خلاف دائر درخواست مسترد صحافی طاہر نصیرکی ٹارگٹ کلنگ کی کوشش کا کیس ، پولیس سے مقدمہ کا ریکارڈ طلب رومانیا کے سفیر کی وفاقی وزیر جنید انور چوہدری اور چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ عتیق الرحمن سے ملاقات، دوطرفہ بحری تعاون کو مضبوط بنانے.

.. قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ 5نومبر کو طلب کرنے کا فیصلہ،سمری وزیراعظم کو ارسال ماحولیاتی تبدیلیوں پر کوپ 30کانفرنس ، وزیراعظم نے نمائندگی کیلئے مصدق ملک کو نامز دکر دیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بھارت ابھی تک پاکستان عطا اللہ تارڑ پاکستان کے فارن سروس نے کہا کہ کے خلاف

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا