لاہور (خبرنگار) وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانہ کیس  میں  وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے شہادت قلمبند کروا دی۔ بانی پی ٹی آئی کے معاون وکیل نے سینئر وکیل محمد حسین چوٹیا کی عدم دستیابی کی بنیاد پر گواہی ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ جرح بعد میں کر لیجئے گا۔ عطا تارڑ نے حلف اٹھا کر شہادت قلمبند کراتے ہوئے عدالت میں بیان دیا کہ مدعی وزیراعظم شہباز شریف ایک معزز اور باوقار سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی سیاسی خدمات سے پوری دنیا واقف ہے۔ انہوں نے شہباز شریف کے مختلف انتخابات میں کامیابیوں اور سرکاری عہدوں پر فائز رہنے کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں، جن پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ یہ دستاویزات گواہ سے متعلق نہیں، تاہم عدالت نے دستاویزات ریکارڈ پر لے لیں۔ عطا تارڑ نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے 8 اپریل 2017 کو ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شہباز شریف پر پانامہ کیس واپس لینے کے لیے 10 ارب روپے کی پیشکش کا جھوٹا الزام لگایا، جو بعد ازاں مختلف ٹی وی پروگرامز، جلسوں اور پشاور سمیت متعدد شہروں میں عوامی اجتماعات کے دوران بھی دہرایا گیا۔ انہوں نے ویڈیو کلپس اور اخباری تراشے بھی عدالت میں پیش  کئے۔ عطا تارڑ نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ جھوٹے الزامات سے شہباز شریف کی ذاتی ساکھ اور قومی و بین الاقوامی سطح پر ان کی عزت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ عدالت نے عطا تارڑ کو آئندہ سماعت 15 نومبر جرح کے لیے طلب کر لیا۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف ہتک عزت کیس میں حقیقی پیشرفت ہو چکی ہے اور تمام ثبوت عدالت میں پیش کر دیے گئے ہیں، امید ہے انصاف ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران احمد نیازی نے جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگایا کہ آج جھوٹے الزامات لگانے والا خود کرپشن کے کیس میں اڈیالہ جیل میں ہے اور دہشت گردوں کی حمایت کرنے کے باعث قوم کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ عمران نیازی کے وکلا اب تک 120 مرتبہ التواء مانگ چکے ہیں،آج بھی ان کے وکیل موجود نہیں تھے، ان کے پاس نہ کہنے کو کچھ ہے نہ ثبوت ہیں،  یہ شخص اداروں کے خلاف بھی پروپیگنڈا کرتا رہا اور دہشت گرد احسان اللہ احسان کو انٹرویو دیا، کسی مہذب ملک میں ایسا عمل قابل قبول نہیں، بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ بلدیاتی نظام پر مکمل یقین ہے اور انتخابات وقت پر ہونے چاہئیں، ماضی میں وائس چیئرمینز نے اسی شہر میں احتجاج کیا تھا، ہم نے ترمیم کر کے انہیں حقوق دلوائے۔ عطاء  اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت قانون کی حکمرانی، معاشی بحالی اور سیاسی استحکام کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے  سہیل آفریدی کے حالیہ بیان اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حقائق مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وزیراعلیٰ خیبرپی کے  نے خود کور کمانڈر ہائوس جانے کی ویڈیو اپنے سوشل میڈیا پر جاری کی جبکہ زمان پارک کی علیحدہ ویڈیو بھی ریکارڈ پر موجود ہے، دونوں ویڈیوز کو جان بوجھ کر خلط ملط کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی بھی ملزم کا ٹرائل اس بنیاد پر نہیں رک سکتا کہ وہ کسی منصب پر فائز ہے، وزیراعلیٰ ہوں یا عام شہری، قانونی کارروائی ہر حال میں ہوتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی شہباز شریف کی کوشش کی عدالت میں نے کہا کہ انہوں نے عطا تارڑ تارڑ نے کرنے کی ہے اور

پڑھیں:

خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم

پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔

پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔

احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔

فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری