اقلیتوں کے حقوق ‘ حفاظت کا عزم غیر متزلزل : شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وزیر اعظم شہباز شریف نے گورو نانک کے یوم ولادت پر پاکستان اور دنیا بھر میں بسنے والے سکھوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ بابا گورو نانک کے امن، رواداری اور ہم آہنگی کے پیغامات سے سبق حاصل کرتے ہوئے دنیا کو اتحاد و یگانگت، باہمی احترام اور امن کا گہوارہ بنانے کی ضرورت ہے۔ حکومت پاکستان تمام مذہبی مقامات کی حفاظت اور زائرین کی رسائی کیلئے ہر طرح کی سہولیات کو یقینی بنا رہی ہے۔ گورونانک وہ ایک ایسے انسان تھے جنہوں نے ساری انسانیت کے لئے امن، برابری اور تحمل و برداشت کو فروغ دینے کا درس دیا۔ گورو نانک کی دائمی تعلیمات بشمول انسانیت سے محبت، بے لوث خدمت، بین المذاہب ہم آہنگی نسلوں کو رہنمائی فراہم کر رہی ہے اور ان کا اتحاد و یگانگت اور رواداری کا پیغام ایک پرامن اور انصاف پسند دنیا کو قائم کرنے کے لیے مشعل راہ ہے۔ یہ باعث اعزاز ہے کہ پاکستان بابا گورو نانک دیو جی کی زندگی اور تعلیمات سے متعلقہ متعدد گوردواروں بالخصوص گوردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب کی حفاظت کر رہا ہے۔ حکومت پاکستان تمام مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کا غیر متزلزل عزم رکھتی ہے۔ اسی عزم کے مطابق حکومت ان تمام مذہبی مقامات کی حفاظت کو یقینی بنا رہی ہے اور خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے آنے والے زائرین کی رسائی میں ہر طرح کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم 8 نومبر کو ایک روزہ دورے پر آذربائیجان جائیں گے۔ شہباز شریف آذربائیجان کے یوم فتح کی تقریبات میں شرکت کریں گے۔ رجب طیب اردگان بھی باکو میں موجود ہوں گے۔ شہباز شریف کی آذربائیجان کے صدر الہام علئیوو اور آذربائیجانی قیادت کے سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔ آنے والے مہینوں میں آذربائیجان کے صدر الہام علئیوو پاکستان کا دورہ بھی کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شہباز شریف گورو نانک کی حفاظت رہی ہے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔