جنوبی کوریا کا 728 کھرب کا بجٹ، خودمختار دفاع اور مصنوعی ذہانت میں انقلاب کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ نے اپنی حکومت کا پہلا بجٹ پیش کیا ہے جو 2026 کے لیے 728 کھرب وون (تقریباً 505 ارب ڈالر) پر مشتمل ہے، یہ بجٹ پچھلے سال کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق جنوبی کوریا کے صدر نے کہا کہ ان کی حکومت کا مقصد ملک کو دفاع میں خودمختار بنانا ہے تاکہ جنوبی کوریا کو اپنی حفاظت کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار نہ کرنا پڑے، دفاع کے لیے حکومت نے 66 کھرب وون (46 ارب ڈالر) رکھے ہیں، جو پچھلے سال سے 8 فیصد زیادہ ہیں۔
انہوں نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ہم اپنی فوج کو جدید بنائیں گے اور خود انحصار دفاع کو حقیقت بنائیں گے۔ بیرونی ملکوں پر انحصار قومی فخر کے خلاف ہے، حکومت نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں بھی بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، 10 کھرب وون (7 ارب ڈالر) اس مقصد کے لیے رکھے گئے ہیں تاکہ جنوبی کوریا دنیا کے تین بڑے AI ممالک میں شامل ہو جائے۔
لی جائے میونگ نے کہا کہ امریکا کے ساتھ جوہری آبدوزوں کے ایندھن کی فراہمی پر بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کو جوہری آبدوزیں بنانے کی اجازت دینے کا منصوبہ منظور کیا ہے۔
صدر لی نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے سے معیشت میں بہتری آئی ہے جبکہ چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں دونوں ملکوں نے تعلقات مکمل طور پر بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
دونوں ممالک نے 70 کھرب وون (48 ارب ڈالر) کے کرنسی تبادلے کے معاہدے میں پانچ سال کی توسیع کی ہے اور چھ نئے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جن میں اقتصادی تعاون اور سرحد پار جرائم کے خلاف مشترکہ اقدامات شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنوبی کوریا کھرب وون ارب ڈالر کیا ہے کے لیے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔