امریکی شٹ ڈاؤن سے ہزاروں پروازیں منسوخ، ٹرمپ نے ایئر ٹریفک کنٹرولرز کو دھمکی دے دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہدایت کی ہے کہ تمام ایئر ٹریفک کنٹرولرز فوراً اپنے فرائض پر واپس آئیں، ورنہ ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جائے گی۔
یہ حکم اس وقت دیا گیا ہے جب امریکی تاریخ کے طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث ملک بھر میں ہزاروں پروازیں منسوخ اور تاخیر کا شکار ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا: “تمام ایئر ٹریفک کنٹرولرز فوراً کام پر واپس آئیں، جو نہیں آئیں گے ان کی تنخواہیں کم کر دی جائیں گی۔”
انہوں نے اعلان کیا کہ جو ملازمین شٹ ڈاؤن کے دوران مسلسل کام کرتے رہے، انہیں 10 ہزار ڈالر بونس دیا جائے گا، جبکہ جو غیر حاضر رہے ان کی استعفے قبول کر لیے جائیں گے۔
رپورٹس کے مطابق 41 دن سے جاری شٹ ڈاؤن کے باعث تقریباً 13 ہزار ایئر ٹریفک کنٹرولرز اور 50 ہزار ٹرانسپورٹ سیکیورٹی ایجنٹس بغیر تنخواہ کام کر رہے ہیں۔
پیر کے روز 2 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ جبکہ 5 ہزار سے زیادہ تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شکاگو میں برفانی طوفان نے صورتحال مزید خراب کر دی۔
ایف اے اے (FAA) کے مطابق، ملک کے بڑے 30 ایئرپورٹس میں سے کئی میں 20 سے 40 فیصد تک عملہ غیر حاضر ہے۔
دوسری جانب ایئرلائن کمپنیوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ شٹ ڈاؤن ختم کرنے کے لیے سینیٹ سے منظور شدہ بل کو جلد از جلد نافذ کیا جائے تاکہ ہوائی سفر معمول پر آسکے۔
امریکن ایئرلائنز کے سی ای او نے اسے "ناقابلِ قبول" قرار دیتے ہوئے کہا کہ “مسافروں اور ملازمین کو بہتر سہولیات ملنا ان کا حق ہے۔”
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد امریکی ایئرلائنز کے شیئرز میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایئر ٹریفک کنٹرولرز شٹ ڈاؤن
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔