شام کے صدر احمد الشرع سے تاریخی ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ شام کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔

ماضی میں القاعدہ کے کمانڈر اور اب شام کے صدر احمد الشرع کچھ عرصہ پہلے تک واشنگٹن کی جانب سے ’غیر ملکی دہشت گرد‘ کے طور پر پابندیوں کا شکار تھے، امریکی صدر سے ان کی یہ ملاقات اُن کی شاندار سفارتی مہم کا تسلسل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کے بعد امریکا نے بھی شامی صدر احمد الشرع پر پابندیاں ختم کر دیں

احمد الشرع نے گزشتہ سال طویل عرصے سے حکمران رہنے والے بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹایا اور اس کے بعد سے وہ دنیا بھر میں یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ایک معتدل رہنما ہیں جو خانہ جنگی کے شکار ملک کو متحد کرنا اور بین الاقوامی تنہائی ختم کرنا چاہتے ہیں۔

???????????????? Syrian President Ahmed al-Sharaa told Fox News off-camera that his nearly two-hour-long meeting with President Trump at the White House was "amazing.

"

He also said President Trump gifted him a MAGA hat during the meeting. pic.twitter.com/RHgtyIHcVf

— Vitamvivere_1 (@Vitamvivere_1) November 11, 2025

امریکی وزارتِ خزانہ نے صدر الشرع کی آمد کے موقع پر اعلان کیا کہ ’سیزر ایکٹ‘ کے تحت لگائی گئی سخت پابندیوں میں نرمی کے لیے 180 روز کی توسیع کی گئی ہے، البتہ ان پابندیوں کا مکمل خاتمہ صرف امریکی کانگریس ہی کرسکتی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی شامی صدر نے واشنگٹن کا دورہ کیا، دونوں ممالک کے صدور کی یہ دوسری ملاقات تھی، اس سے قبل دونوں کی ملاقات 6 ماہ پہلے سعودی عرب میں ہوئی تھی، جب صدر ٹرمپ نے شام پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں:سابق دشمن آمنے سامنے، احمد الشرع کو گرفتار کرکے 5 سال قید میں رکھنے والے امریکی جنرل کا ان سے انٹرویو

احمد الشرع کی واشنگٹن آمد نسبتاً خاموش رہی، ماضی میں اُن کے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر مقرر تھی، مگر اس بار وہ وائٹ ہاؤس کے پچھلے دروازے سے داخل ہوئے جہاں میڈیا کو صرف سرسری جھلک دیکھنے کا موقع ملا۔

ٹرمپ نے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے احمد الشرع کو طاقتور رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم شام کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے، صدر الشرع کے متنازعہ ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سب کا ماضی مشکل رہا ہے۔

43 سالہ احمد الشرع نے گزشتہ سال اسلام پسند جنگجوؤں کی مدد سے اچانک حملہ کر کے صدر بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا، اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے شام کو ایران اور روس سے دور اور ترکی، خلیجی ممالک اور امریکا کے قریب کرنے کی پالیسی اپنائی۔

مزید پڑھیں:سعودی ولی عہد کا شام میں کشیدگی پر قابو پانے کے اقدامات کا خیرمقدم

ذرائع کے مطابق امریکا شام اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ سکیورٹی معاہدے کے لیے مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ امریکی منصوبے کے تحت دمشق میں ایک فوجی اڈا قائم کرنے پر بھی غور جاری ہے۔

احمد الشرع کی ملاقات سے قبل اطلاعات ملی تھیں کہ پچھلے چند ماہ کے دوران داعش کے 2 علیحدہ حملوں کی منصوبہ بندی ناکام بنائی گئی، شامی وزارتِ داخلہ نے حال ہی میں ملک بھر میں داعش کے خفیہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 70 سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔

صدر ٹرمپ نے ملاقات کے بعد کانگریس رکن مارجری ٹیلر گرین کی تنقید پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ صدارت کو ایک عالمی ذمہ داری کے طور پر دیکھتے ہیں، دنیا آگ میں جل سکتی ہے اور جنگیں ہمارے دروازے تک پہنچ سکتی ہیں۔

Ahmed Al Sharaa in DC after meeting Trump at the White House

pic.twitter.com/JebKaKB557

— Osama Bin Javaid (@osamabinjavaid) November 10, 2025

ملاقات کے اختتام پر احمد الشرع نے وائٹ ہاؤس کے باہر اپنے حامیوں سے مختصر ملاقات کی، جہاں شامی پرچم لہرائے جا رہے تھے۔

احمد الشرع نے عندیہ دیا کہ وہ ’سیزر ایکٹ‘ کے مکمل خاتمے کے لیے زور دیں گے تاکہ 14 سالہ خانہ جنگی سے تباہ حال شام میں غیرملکی سرمایہ کاری بحال ہو سکے، عالمی بینک کے مطابق شام کی تعمیر نو کے لیے 200 ارب ڈالر سے زائد درکار ہوں گے۔

مزید پڑھیں: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے شامی صدر کی ملاقات، دونوں ملکوں میں کیا طے پایا؟

اگرچہ کانگریس کے کچھ ارکان پابندیوں کے خاتمے کی حمایت کرتے ہیں، مگر چند ریپبلکن اراکین اب بھی ان کے برقرار رہنے کے حامی ہیں۔

شام میں بشارالاسد کے زوال کے بعد فرقہ وارانہ تشدد کے نئے سلسلے میں 2,500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس سے ملک کی سماجی یکجہتی مزید کمزور ہوئی ہے۔

صدر ٹرمپ کی شام پر توجہ ایسے وقت میں ہے جب ان کی انتظامیہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کو برقرار رکھنے اور غزہ کے 2 سالہ تنازع کے خاتمے کے لیے 20 نکاتی منصوبہ آگے بڑھا رہی ہے۔

مزید پڑھیں:شام: باغی گروپ کا جنگی جرائم میں ملوث فوجی حکام کیخلاف کارروائی کا اعلان

احمد الشراع کی ذاتی کہانی بھی ڈرامائی ہے۔ وہ 2003 میں امریکی حملے کے بعد عراق میں القاعدہ میں شامل ہوئے، کئی سال امریکی قید میں رہے اور پھر شام لوٹ کر بشارالاسد کے خلاف بغاوت میں شریک ہو گئے، 2013 میں انہیں امریکی محکمۂ خزانہ نے دہشت گرد قرار دیا، تاہم 2016 میں القاعدہ سے علیحدگی کے بعد انہوں نے شمال مغربی شام میں اپنی گرفت مضبوط کر لی۔

گزشتہ ماہ امریکا نے ان کے سر کی قیمت ختم کی اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اُن پر دہشت گردی کے الزامات پر عائد پابندیاں اٹھا لیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احمد الشرع القاعدہ امریکا بشارالاسد داعش ڈونلڈ ٹرمپ سیزر ایکٹ عالمی بینک کانگریس وائٹ ہاؤس

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: احمد الشرع القاعدہ امریکا بشارالاسد ڈونلڈ ٹرمپ سیزر ایکٹ عالمی بینک کانگریس وائٹ ہاؤس احمد الشرع نے مزید پڑھیں ملاقات کے وائٹ ہاؤس کے بعد کے لیے

پڑھیں:

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے  باہمی  ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟

حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

عالمی ردعمل

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

قانونی ماہرین کی رائے

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرمپ ٹیرف

متعلقہ مضامین

  • مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل