دریائوں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال کے نئے اعدادوشمار جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
تربیلا، منگلا اور چشمہ کے آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج، ان کی سطح اور بیراجوں میں پانی کے بہا ئوکی صورتحال حسب ذیل رہی۔دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پرآمد 28 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 70 ہزار کیوسک، دریائے کابل میںنوشہرہ کے مقام پرآمد 8 ہزار کیوسک اور اخراج 8 ہزار کیوسک، خیرآباد پل آمد 36 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 36 ہزار 300 کیوسک،جہلم میںمنگلاکے مقام پرآمد 5 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 23 ہزار 700 کیوسک، چناب میںمرالہ کے مقام پرآمد 11 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 5 ہزار 400 کیوسک رہا۔ جناح بیراج آمد 79 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 72 ہزار 800 کیوسک، چشمہ آمد 66 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 59 ہزار کیوسک، تونسہ آمد 51 ہزار کیوسک اور اخراج 44 ہزار 700 کیوسک،گدو آمد 44 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 37 ہزار 400 کیوسک، سکھر آمد 39 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 8 ہزار 200 کیوسک، کوٹری آمد 13 ہزار کیوسک اور اخراج ایک ہزار 300 کیوسک، تریموں آمد 16 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 8 ہزار 100 کیوسک، پنجند آمد 14 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 3 ہزار 800 کیوسک ریکارڈکیا گیا۔آبی ذخائر میںتربیلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ،پانی کی موجودہ سطح 1534.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کیوسک اور اخراج کے مقام پرآمد ہزار 300 کیوسک ہزار کیوسک میں پانی فٹ پانی پانی کی
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔