دریائوں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال کے نئے اعدادوشمار جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
تربیلا، منگلا اور چشمہ کے آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج، ان کی سطح اور بیراجوں میں پانی کے بہا ئوکی صورتحال حسب ذیل رہی۔دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پرآمد 28 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 70 ہزار کیوسک، دریائے کابل میںنوشہرہ کے مقام پرآمد 8 ہزار کیوسک اور اخراج 8 ہزار کیوسک، خیرآباد پل آمد 36 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 36 ہزار 300 کیوسک،جہلم میںمنگلاکے مقام پرآمد 5 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 23 ہزار 700 کیوسک، چناب میںمرالہ کے مقام پرآمد 11 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 5 ہزار 400 کیوسک رہا۔ جناح بیراج آمد 79 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 72 ہزار 800 کیوسک، چشمہ آمد 66 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 59 ہزار کیوسک، تونسہ آمد 51 ہزار کیوسک اور اخراج 44 ہزار 700 کیوسک،گدو آمد 44 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 37 ہزار 400 کیوسک، سکھر آمد 39 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 8 ہزار 200 کیوسک، کوٹری آمد 13 ہزار کیوسک اور اخراج ایک ہزار 300 کیوسک، تریموں آمد 16 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 8 ہزار 100 کیوسک، پنجند آمد 14 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 3 ہزار 800 کیوسک ریکارڈکیا گیا۔آبی ذخائر میںتربیلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ،پانی کی موجودہ سطح 1534.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کیوسک اور اخراج کے مقام پرآمد ہزار 300 کیوسک ہزار کیوسک میں پانی فٹ پانی پانی کی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔