سینیٹ سے منظور ہونے والی 27 ویں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کر دیا گیا جس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔قومی اسمبلی کا اجلاس آدھا گھنٹہ تاخیر سے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم بل کی تحریک پیش کی۔اجلاس کے آغاز پر سینیٹر عرفان صدیقی کے لیے دعائے مغفرت کی گئی جس کے بعد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے بل پیش کیا گیا اور تقریر شروع کی گئی جس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے ایوان زیریں کو 27 ویں ترمیم کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ آئین میں ترمیم ہمیشہ مشاورت سے کی جاتی ہے، ہم نے پہلے آئینی عدالت کے قیام کی بجائے آئینی بنچز کے قیام پر اتفاق کیا تھا، میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کا بنیادی نکتہ شامل تھا۔وزیر قانون نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں ججز کی تقرری جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کی جاتی ہیں، سوموٹو کی نذر کبھی وزیراعظم ہوگیا، کبھی کوئی سرکاری افسرہوگیا، سوموٹو نے کبھی معاشی نظام ہی بٹھادیا، اس بل میں سوموٹو کااختیارختم ہوگیا ہے اورایک طریقہ کاروضع کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں آرٹیکل 200کے تحت تبادلے ہوئے،وہ چیلنج بھی ہوئے، ماضی میں سوموٹو کے اختیار کا بے جا استعمال کیا گیا، آرٹیکل 200میں ترمیم کرکے ججز تبادلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو دیا گیا، آئینی عدالت سےکیسز میں جو عدالتوں کا وقت ضائع ہوتا تھا وہ نہیں ہوگا، جوڈیشل کمیشن کواختیاردیا گیا کہ وہ جج کا تبادلہ کرے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ ترمیم ہوتی ہے تو موجودہ چیف جسٹس ہی آئینی کمیشن اوراداروں کی سربراہی کریں گے، چیف جسٹس کے بعد وزیراعظم کی تجویز پر صدرتبادلہ کردیتے تھے، اس سے قبل ججز تبادلوں پر غورکیا اوراس پر قانون سازی ہورہی ہے۔وزیر قانون نے بتایا کہ صوبوں کے معاملات، آئینی مقدمات آئینی عدالت دیکھے گی، سپریم کورٹ دیوانی مقدمات سمیت کل 62ہزارسے زائد مقدمات سنے گی، پہلے صدرمملکت آرٹیکل 200کے تحت ہائیکورٹ سے دوسرے ہائیکورٹ میں تبادلہ تجویز کرسکتے تھے، جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ اورآئینی عدالت کے 5 ججز اوراپوزیشن وحکومت سے2-2ممبران پرمشتمل ہوگا اور فیصلہ کرے گا، کمیشن کو اختیار دیا کہ وہ جج کا تبادلہ کرے۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ فوج کاایک کردارہے جب بھارت نے جارحیت کی توایوان اسی طرح آباد تھا، اس ایوان نے دیکھا کہ بھارت کے خلاف سب متحد ہوگئے، بھارت سے فتح کے بعد او آئی سی اورعرب ممالک نے اسے سراہا اورساتھ دیا، آرمی چیف کی تقرری آرمی ایکٹ کے تحت ہوتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: جوڈیشل کمیشن ا ئینی عدالت قومی اسمبلی کہا کہ

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن