سخی جام داتارؒ کے 754ویں عرس پر شہید بینظیر آباد میں پیر کو چھٹی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک : سید اصغر علی شاہ عرف سخی جام داتارؒ کے 754ویں سالانہ عرس کے موقع پر شہید بینظیر آباد کے ڈپٹی کمشنر عبدالصمد نظامانی نے ضلع بھر میں (پیر) 17 نومبر 2025 کو عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اتوار کی چھٹی ساتھ ہونے کے بعد سٹوڈنٹس اور شہری ایک ساتھ دو چھٹیوں سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔
ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 17 نومبر بروز پیر تمام سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور عوامی محکمے بند رہیں گے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کل سرکاری دورے پر برازیل روانہ ہوں گی
واضح رہے کہ تین روزہ عرس کی تقریبات 17 نومبر سے 19 نومبر تک تاریخی قصبے جام صاحب میں منعقد ہوں گی، جن میں سندھ بھر سمیت ملک کے مختلف حصوں سے زائرین اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ عرس کے دوران روحانی محافل، دعا و مناجات، صوفیانہ موسیقی اور لنگر کا خصوصی اہتمام کیا جائے گا۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے عرس کے موقع پر سیکیورٹی، ٹریفک اور صفائی کے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ اسکے علاوہ اہم داخلی و خارجی راستوں پر چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں جبکہ میڈیکل کیمپس اور کنٹرول روم بھی قائم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔
پنجاب حکومت نے ٹرانسپورٹ اور جائیداد کی لیز پر عائد ٹیکس معطل کر دیا
انتظامیہ کے مطابق ضلعی سطح پر مختلف محکمے عرس کی تقریبات کے دوران سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں گے تاکہ زائرین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔