یومِ اقبال: 9 نومبر کوکوئی اضافی تعطیل نہیں ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
پاکستان سمیت دنیا بھر میں شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کا یومِ پیدائش 9 نومبر، بروز اتوار کو بھرپور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائے گا،اس سال وفاقی حکومت نے اقبال ڈے کے موقع پر کسی اضافی سرکاری تعطیل کا اعلان نہیں کیا کیونکہ یہ دن اتوار کے روز آ رہا ہے جو پہلے ہی ملک بھر میں عام تعطیل کا دن ہوتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق وفاقی حکومت کی جانب سے جاری 2025 کی سرکاری تعطیلات کی فہرست میں اقبال ڈے شامل ہے لیکن اتوار کے اتفاق کے باعث علیحدہ چھٹی کا اطلاق نہیں ہوگا، اس طرح شہری اپنی معمول کی اتوار کی چھٹی ہی کو اقبال ڈے کے طور پر منائیں گے۔
یومِ اقبال کے موقع پر ملک بھر میں تقریبات، مشاعرے، سیمینارز اور تعلیمی پروگرامز منعقد کیے جائیں گے جن میں شاعرِ مشرق کے افکار، فلسفے اور تعلیمات پر روشنی ڈالی جائے گی، مختلف جامعات، اسکولوں اور سرکاری و نجی اداروں کی جانب سے اقبال شناسی کے مقابلے، تقریری نشستیں اور خصوصی لیکچرز کا اہتمام کیا گیا ہے، جن کا مقصد نوجوان نسل کو علامہ اقبالؒ کے پیغامِ خودی اور فکری بیداری سے آگاہ کرنا ہے۔
علامہ محمد اقبالؒ 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، وہ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، فلسفی اور مفکر ہونے کے ساتھ ساتھ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کے تصور کے معمار بھی تھے، ان کی شاعری نے نوجوانوں میں خودی، حوصلہ اور بیداری کا جذبہ پیدا کیا جس نے تحریکِ پاکستان کی فکری بنیاد رکھی۔
اگرچہ اس سال اقبال ڈے پر اضافی چھٹی نہیں ہوگی مگر قوم اپنے مفکرِ پاکستان کو روایتی جوش و جذبے کے ساتھ یاد کرے گی، علامہ اقبال کے حوالے سے تمام اسکولوں میں بھی اگلے دن مختلف پروگرامات منعقد کیے جائیں گے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اقبال کے افکار پر عمل اور ان کے فلسفے کو اپنی زندگیوں میں اپنانا ہی اُنہیں حقیقی خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے، اپنی زندگیوں کو علامہ اقبال کی شاعری میں تبدیل کرنی چاہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اقبال ڈے
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔