علامہ صادق جعفری کا سوڈان میں جاری خانہ جنگی اور لرزہ خیز مظالم پر شدید تشویش کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
رہنما ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین عالمی اداروں، بالخصوص اقوام متحدہ، او آئی سی، افریقی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالیں اور انسانی بنیادوں پر امدادی راہیں کھولیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے صدر علامہ صادق جعفری کا کہنا تھا کہ سوڈان میں جاری خانہ جنگی، انسانی المیے اور مظلوم عوام پر ہونے والے لرزہ خیز مظالم پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتی ہے، گزشتہ دو برس سے سوڈان کے مختلف شہروں خصوصاً دارفور اور الفاشر میں فوجی گروہوں کے مابین جاری خونریز جھڑپوں نے پورے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، ہزاروں معصوم شہری، خواتین اور بچے قتل و دربدری کا شکار ہیں، لاکھوں افراد بھوک، پیاس اور علاج کی سہولیات کے بغیر کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اسپتال، عبادت گاہیں اور رہائشی علاقے نشانہ بنائے جا رہے ہیں، یہ صورتحال واضح طور پر انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین اور اسلامی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے، مجلس وحدت مسلمین عالمی اداروں، بالخصوص اقوام متحدہ، او آئی سی، افریقی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالیں اور انسانی بنیادوں پر امدادی راہیں کھولیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بے گناہ شہریوں کے قتلِ عام اور جنگی جرائم کی شفاف تحقیقات کی جائیں، متاثرہ علاقوں میں اقوامِ متحدہ کی زیر نگرانی امن مشن تعینات کیا جائے تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، عالمی ضمیر کو بیدار کیا جائے تاکہ دنیا سوڈان کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑی ہو، نہ کہ خاموش تماشائی بنے، مجلس وحدت مسلمین اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ظلم و جارحیت کے خلاف آواز اٹھانا ایمان کا تقاضا ہے، سوڈان کے مظلوم عوام آج امتِ مسلمہ کی اجتماعی حمایت کے منتظر ہیں، ہم ہر سطح پر ان کی آواز بننے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد و یکجہتی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، ہم سوڈان کے مظلوم عوام کے ساتھ ہیں، انشاءاللہ ظلم کے ایوان ایک روز ضرور لرزیں گے اور عدل و انصاف کی صبح طلوع ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور انسانی مظلوم عوام سوڈان کے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔