برطانیہ‘ غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کارروائیاں‘ 8 ہزار سے زائد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برطانیہ‘ غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کارروائیاں‘ 8 ہزار سے زائد گرفتار
لندن: برطانیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاو¿ن کا سلسلہ جاری ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں اعلیٰ حکام کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بڑے پیمانے پرکریک ڈاو¿ن کا سلسلہ جاری ہے۔ جس میں کارروائی کے دوران 8 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ 1 ہزار سے زائد غیر قانونی مقیم شہریوں کو ملک بدر کردیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شمالی آئرلینڈ میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والے 200 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ گزشتہ دنوں لندن میں افغان تارک وطن نے چاقو سے حملہ کر کے ایک شخص کو ہلاک اور 2 کو زخمی کردیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غیر قانونی تارکین وطن
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔