data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:۔ شوگر ایڈوائزری بورڈ نے کرشنگ سیزن 15 نومبر سے شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہاہے کہ جو شوگر مل مقررہ تاریخ پر کرشنگ شروع نہیں کرے گی اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

بدھ کو شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وفد نے شرکت کی جس کی قیادت چوہدری ذکا اشرف نے کی۔ اس کے علاوہ چاروں صوبوں کے کین کمشنرز، وزارتِ صنعت و پیداوار، وزارتِ تجارت اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔

رانا تنویر حسین نے کہاکہ شوگر ایڈوائزری بورڈ نے کرشنگ سیزن 15 نومبر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، فیصلہ تمام صوبوں اور پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن سے مشاورت کے بعد کیا گیا، جو شوگر مل مقررہ تاریخ پر کرشنگ شروع نہیں کرے گی اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

 وفاقی وزیر نے کہاکہ کسانوں کو واجبات کی ادائیگی کرشنگ کے آغاز سے قبل یقینی بنائی جائے گی حکومت کسانوں کے مفاد میں فیصلے کر رہی ہے تاکہ ان کا استحصال نہ ہو۔ بروقت کرشنگ سے گنے کے کاشتکاروں کو سہولت ملے گی فیصلہ کسانوں کے مفاد اور مارکیٹ میں چینی کی بروقت فراہمی کے لیے کیا گیا۔

اجلاس کے شرکا نے کرشنگ سیزن کے آغاز سے متعلق کیے گئے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور حکومت کے بروقت اقدام کو سراہا۔ رانا تنویر حسین نے متعلقہ صوبائی حکام کو ہدایت کی کہ وہ تمام شوگر ملز کی نگرانی یقینی بنائیں تاکہ کسانوں کے حقوق کا مکمل تحفظ ہو سکے۔

ویب ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شوگر ایڈوائزری بورڈ رانا تنویر حسین

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان