سندھ کے کسانوں نے جرمن کمپنیوں کو 3 ارب 70 کروڑ روپے کا لیگل نوٹس کیوں بھیجا؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
سندھ کے کسانوں نے بنیادی طور پر 2022 کے تباہ کن سیلاب میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے جرمن کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
کسانوں کا مؤقف ہے کہ جرمن کمپنیاں آر ڈبلیو ای RWE جو ایک توانائی کمپنی ہے اور ہائیڈلبرگ Heidelberg Materials جو سیمنٹ بنانے والی کمپنی ہے دنیا کی سب سے بڑی آلودگی پھیلانے والی کمپنیوں میں شامل ہیں، اور ان کے کاربن اخراج نے موسمیاتی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلابوں کی شدت میں اضافہ کیا، جس سے ان کی زمینیں اور روزگار تباہ ہوئے۔
جنرل سکیریٹری نیشنل ٹریڈ یونین ناصر منصور نے وی نیوز کو بتایا ہے کہ کسان ان کمپنیوں سے اپنے نقصانات کے لیے 10 لاکھ یورو یعنی 3 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد کا معاوضہ چاہتے ہیں۔ دادو، لاڑکانہ اور جیکب آباد کے 43 کسانوں نے ان کمپنیوں کو باقاعدہ قانونی نوٹس بھیج دیا ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر نقصان کی قیمت ادا نہ کی گئی تو دسمبر 2025 میں جرمن عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے پاکستان میں پانی کی شدید قلت کا خطرہ، بین الاقوامی رپورٹ میں انکشاف
اس کیس میں موسمیاتی انصاف پر زور دیا گیا ہے، جہاں وہ سندھ کے کسان جو گلوبل وارمنگ میں سب سے کم حصہ ڈالتی ہیں، وہ ان بڑے اداروں سے ازالہ طلب کر رہی ہیں جو منافع کماتے ہوئے بڑے پیمانے پر آلودگی پھیلاتے ہیں۔
ناصر منصور کا کہنا ہے کہ 2022 کا سیلاب پاکستان کی تاریخ کے بدترین قدرتی آفات میں سے ایک تھا، اور سندھ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا شدید بارشوں اور غیر معمولی مون سون کو براہِ راست موسمیاتی تبدیلی سے جوڑا گیا۔
انکا کہنا ہے کہ قریباً 33 ملین افراد متاثر ہوئے، جن میں اکثریت کسانوں اور دیہی آبادی کی تھی۔ لاکھوں ایکڑ پر پھیلی فصلیں تباہ ہو گئیں، جس سے کسانوں کا ذریعہ معاش مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ اس سے غذائی تحفظ کا شدید بحران پیدا ہوا اور معاشی نقصانات کا تخمینہ 30 بلین ڈالر سے تجاوز کیا۔
مزید پڑھیں: سندھ کے سیلاب متاثرین کو کہاں آباد کیا جا رہا ہے؟
ناصر منصور کے مطابق کسانوں نے جرمن عدالتوں میں کیس کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، کیونکہ کمپنیاں جرمنی میں قائم ہیں۔ اس اقدام کی قیادت ایک ماحولیاتی وکلاء کی ٹیم کر رہی ہے جو بین الاقوامی سطح پر موسمیاتی انصاف کے کیسز میں مہارت رکھتی ہے، یہ کیس اس نوعیت کے چند بین الاقوامی کیسز میں سے ایک ہے جہاں متاثرین براہ راست ترقی یافتہ ملک کی کمپنیوں پر ان کے کاربن اخراج کے نتائج کے لیے مقدمہ کر رہے ہیں۔
مقامی زمیندار عبدالحفیظ کھوسو کا کہنا ہے کہ جو نقصان پہنچاتے ہیں انھیں اس کی قیمت بھی ادا کرنی چاہیے۔ ہم نے آب و ہوا کے بحران میں سب سے کم حصہ ڈالا ہے، اپنے گھروں اور معاش کو کھو رہے ہیں جبکہ مالدار کمپنیاں مزید منافع کما رہی ہیں۔
کسانوں کی زمینیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، چاول اور گندم کی کم از کم 2 فصلیں ضائع ہو گئیں، اور ان کا کل نقصان 10 لاکھ یورو سے زائد ہے۔
ا
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جرمن کمپنیوں سندھ سندھ سیلاب لیگل نوٹس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جرمن کمپنیوں سندھ سیلاب لیگل نوٹس سندھ کے کے لیے
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔