سندھ کے کسانوں نے بنیادی طور پر 2022 کے تباہ کن سیلاب میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے جرمن کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

کسانوں کا مؤقف ہے کہ جرمن کمپنیاں آر ڈبلیو ای RWE جو ایک توانائی کمپنی ہے اور ہائیڈلبرگ Heidelberg Materials جو سیمنٹ بنانے والی کمپنی ہے دنیا کی سب سے بڑی آلودگی پھیلانے والی کمپنیوں میں شامل ہیں، اور ان کے کاربن اخراج نے موسمیاتی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلابوں کی شدت میں اضافہ کیا، جس سے ان کی زمینیں اور روزگار تباہ ہوئے۔

جنرل سکیریٹری نیشنل ٹریڈ یونین ناصر منصور نے وی نیوز کو بتایا ہے کہ کسان ان کمپنیوں سے اپنے نقصانات کے لیے 10 لاکھ یورو یعنی 3 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد کا معاوضہ چاہتے ہیں۔ دادو، لاڑکانہ اور جیکب آباد کے 43 کسانوں نے ان کمپنیوں کو باقاعدہ قانونی نوٹس بھیج دیا ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر نقصان کی قیمت ادا نہ کی گئی تو دسمبر 2025 میں جرمن عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:  سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے پاکستان میں پانی کی شدید قلت کا خطرہ، بین الاقوامی رپورٹ میں انکشاف

اس کیس میں موسمیاتی انصاف پر زور دیا گیا ہے، جہاں وہ سندھ کے کسان جو گلوبل وارمنگ میں سب سے کم حصہ ڈالتی ہیں، وہ ان بڑے اداروں سے ازالہ طلب کر رہی ہیں جو منافع کماتے ہوئے بڑے پیمانے پر آلودگی پھیلاتے ہیں۔

ناصر منصور کا کہنا ہے کہ 2022 کا سیلاب پاکستان کی تاریخ کے بدترین قدرتی آفات میں سے ایک تھا، اور سندھ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا شدید بارشوں اور غیر معمولی مون سون کو براہِ راست موسمیاتی تبدیلی سے جوڑا گیا۔

انکا کہنا ہے کہ قریباً 33 ملین افراد متاثر ہوئے، جن میں اکثریت کسانوں اور دیہی آبادی کی تھی۔ لاکھوں ایکڑ پر پھیلی فصلیں تباہ ہو گئیں، جس سے کسانوں کا ذریعہ معاش مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ اس سے غذائی تحفظ کا شدید بحران پیدا ہوا اور معاشی نقصانات کا تخمینہ 30 بلین ڈالر سے تجاوز کیا۔

مزید پڑھیں: سندھ کے سیلاب متاثرین کو کہاں آباد کیا جا رہا ہے؟

ناصر منصور کے مطابق کسانوں نے جرمن عدالتوں میں کیس کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، کیونکہ کمپنیاں جرمنی میں قائم ہیں۔ اس اقدام کی قیادت ایک ماحولیاتی وکلاء کی ٹیم کر رہی ہے جو بین الاقوامی سطح پر موسمیاتی انصاف کے کیسز میں مہارت رکھتی ہے، یہ کیس اس نوعیت کے چند بین الاقوامی کیسز میں سے ایک ہے جہاں متاثرین براہ راست ترقی یافتہ ملک کی کمپنیوں پر ان کے کاربن اخراج کے نتائج کے لیے مقدمہ کر رہے ہیں۔

مقامی زمیندار عبدالحفیظ کھوسو کا کہنا ہے کہ جو نقصان پہنچاتے ہیں انھیں اس کی قیمت بھی ادا کرنی چاہیے۔ ہم نے آب و ہوا کے بحران میں سب سے کم حصہ ڈالا ہے، اپنے گھروں اور معاش کو کھو رہے ہیں جبکہ مالدار کمپنیاں مزید منافع کما رہی ہیں۔

کسانوں کی زمینیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، چاول اور گندم کی کم از کم 2 فصلیں ضائع ہو گئیں، اور ان کا کل نقصان 10 لاکھ یورو سے زائد ہے۔
ا

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جرمن کمپنیوں سندھ سندھ سیلاب لیگل نوٹس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جرمن کمپنیوں سندھ سیلاب لیگل نوٹس سندھ کے کے لیے

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف