سائبر سپورٹ فرنٹ نامی ہیکنگ گروپ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مایا انڈسٹریز کی خفیہ دستاویزات کو قیمت لگا کر فروخت کے لیے جاری کیا ہے۔ یہ کمپنی اسرائیلی ریاست سے منسلک ایک بڑی ہتھیار ساز ہے۔ لیک ہونے والے ڈیٹا میں مختلف جدید فوجی نظاموں کی ترقی کے مراحل کی تفصیلی بلو پرنٹس اور دستاویزات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ہیکر گروپ نے صیہونی ریاست کی اہم فوجی کنٹریکٹر کمپنی "مایا ڈیفنس انڈسٹریز" کی خفیہ فائلیں لیک کر کے فروخت کے لیے پیش کر دی ہیں، جس سے اس کے جارحانہ اور دفاعی ہتھیاروں کے نظاموں کے حساس ڈیٹا کا انکشاف ہوا ہے۔ سائبر سپورٹ فرنٹ نامی ہیکنگ گروپ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مایا انڈسٹریز کی خفیہ دستاویزات کو قیمت لگا کر فروخت کے لیے جاری کیا ہے۔ یہ کمپنی اسرائیلی ریاست سے منسلک ایک بڑی ہتھیار ساز ہے۔ لیک ہونے والے ڈیٹا میں مختلف جدید فوجی نظاموں کی ترقی کے مراحل کی تفصیلی بلو پرنٹس اور دستاویزات شامل ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ مایا ایلبیٹ سسٹمز اور رافیل جیسی اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ایسی ٹیکنالوجیز تیار کرتی ہے۔ ہیکرز نے پہلے ہی اسی کمپنی کو نشانہ بنانے والے ایک بڑے سائبر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

بعد میں انہوں نے لیک ہونے والے مواد کے کچھ حصوں کی ویڈیو فوٹیج جاری کی، اور دعویٰ کیا کہ انہیں اسرائیلی ریاست کے جدید آئرن بیم لیزر ایئر ڈیفنس سسٹم کے علاوہ کئی دیگر معروف اسرائیلی ہتھیاروں کے انتہائی خفیہ ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ جاری کردہ کلپس میں، ہیکر گروپ نے اسرائیلی ریاست کی فوجی مصنوعات کی تکنیکی معلومات اور تصاویر دکھائیں جن میں اسکائی لارک ریکونیسنس ڈرون، اسپائیڈر ایئر ڈیفنس سسٹم، اور آئس بریکر سٹیلتھ کروز میزائل شامل ہیں یہ تمام جدید ترین ٹیکنالوجی سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ لیک ہونے والے مواد میں آسٹریلیا اور یورپ کے کئی ممالک میں صیہونی ریاست کی فوج اور اس کے شراکت داروں کے درمیان مشترکہ معاہدوں کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیلی ریاست لیک ہونے والے شامل ہیں ریاست کی گروپ نے کیا ہے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان