صیہونی ریاست کی اہم عسکری کمپنی "مایا" کی ہیک شدہ دستاویزات فروخت کیلئے پیش
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
سائبر سپورٹ فرنٹ نامی ہیکنگ گروپ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مایا انڈسٹریز کی خفیہ دستاویزات کو قیمت لگا کر فروخت کے لیے جاری کیا ہے۔ یہ کمپنی اسرائیلی ریاست سے منسلک ایک بڑی ہتھیار ساز ہے۔ لیک ہونے والے ڈیٹا میں مختلف جدید فوجی نظاموں کی ترقی کے مراحل کی تفصیلی بلو پرنٹس اور دستاویزات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ہیکر گروپ نے صیہونی ریاست کی اہم فوجی کنٹریکٹر کمپنی "مایا ڈیفنس انڈسٹریز" کی خفیہ فائلیں لیک کر کے فروخت کے لیے پیش کر دی ہیں، جس سے اس کے جارحانہ اور دفاعی ہتھیاروں کے نظاموں کے حساس ڈیٹا کا انکشاف ہوا ہے۔ سائبر سپورٹ فرنٹ نامی ہیکنگ گروپ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مایا انڈسٹریز کی خفیہ دستاویزات کو قیمت لگا کر فروخت کے لیے جاری کیا ہے۔ یہ کمپنی اسرائیلی ریاست سے منسلک ایک بڑی ہتھیار ساز ہے۔ لیک ہونے والے ڈیٹا میں مختلف جدید فوجی نظاموں کی ترقی کے مراحل کی تفصیلی بلو پرنٹس اور دستاویزات شامل ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ مایا ایلبیٹ سسٹمز اور رافیل جیسی اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ایسی ٹیکنالوجیز تیار کرتی ہے۔ ہیکرز نے پہلے ہی اسی کمپنی کو نشانہ بنانے والے ایک بڑے سائبر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
بعد میں انہوں نے لیک ہونے والے مواد کے کچھ حصوں کی ویڈیو فوٹیج جاری کی، اور دعویٰ کیا کہ انہیں اسرائیلی ریاست کے جدید آئرن بیم لیزر ایئر ڈیفنس سسٹم کے علاوہ کئی دیگر معروف اسرائیلی ہتھیاروں کے انتہائی خفیہ ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ جاری کردہ کلپس میں، ہیکر گروپ نے اسرائیلی ریاست کی فوجی مصنوعات کی تکنیکی معلومات اور تصاویر دکھائیں جن میں اسکائی لارک ریکونیسنس ڈرون، اسپائیڈر ایئر ڈیفنس سسٹم، اور آئس بریکر سٹیلتھ کروز میزائل شامل ہیں یہ تمام جدید ترین ٹیکنالوجی سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ لیک ہونے والے مواد میں آسٹریلیا اور یورپ کے کئی ممالک میں صیہونی ریاست کی فوج اور اس کے شراکت داروں کے درمیان مشترکہ معاہدوں کی تصاویر بھی شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی ریاست لیک ہونے والے شامل ہیں ریاست کی گروپ نے کیا ہے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔