سال کا سب سے روشن اور بڑا سُپر مون آج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکے گا
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
آسمان پر آج سال کا سب سے روشن اور بڑا سپر مون جلوہ گر ہوگا، جو پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں واضح طور پر دیکھا جا سکے گا۔
سپارکو کے ترجمان کے مطابق یہ رواں سال کے تین سپر مونز میں سے دوسرا سپر مون ہے، جو اپنے غیر معمولی حجم اور چمک کے باعث نمایاں رہے گا، آج چاند معمول سے 16 فیصد زیادہ روشن لگے گا۔
ماہرین کے مطابق سپر مون اس وقت بنتا ہے جب چاند اپنے مدار کے سب سے قریب فاصلے پر پہنچ کر مکمل چاند کی حالت میں ہوتا ہے، اس موقع پر چاند عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ بڑا اور روشن دکھائی دیتا ہے۔
ترجمان کے مطابق آج شام 6 بج کر 19 منٹ پر چاند اپنی زیادہ سے زیادہ چمک پر ہوگا اور زمین سے اس کا فاصلہ 221,817 میل رہ جائے گا، اس نزدیکی کی بدولت چاند اپنے معمول سے تقریباً 9.
بیور مون کا نام شمالی امریکا کی روایات سے منسوب ہے
یہ سپر مون رواں سال کا دوسرا واقعہ ہے، جبکہ تیسرا سپر مون دسمبر میں دیکھا جا سکے گا، ماہرینِ فلکیات کے مطابق بیور سپر مون کو اس سال کا سب سے بڑا اور درخشاں چاند قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں موسمِ سرما کے صاف اور شفاف آسمان کی وجہ سے یہ نظارہ خاص طور پر واضح ہوگا، ماہرین کا کہنا ہے کہ روشنیوں سے دور علاقوں میں یہ منظر سب سے زیادہ خوبصورت دکھائی دے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سال کا سب سے کے مطابق
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :