حماس سے جھڑپ میں اسرائیلی فوج کا اہلکار ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
غزہ کے علاقے رفح میں حماس کے ساتھ جھڑپ میں اسرائیلی فوج کا ایک اور اہلکار مارا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ مارے گئے اہلکار کی شناخت 37 سالہ یونا ایفرائیم فیلڈباؤم کے نام سے ہوئی جو ماسٹر سارجنٹ کے عہدے پر فائز تھا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی اہلکار کو حماس کے اسنائپر نے اُس وقت نشانہ بنایا جب ایک عمارت کی کھدائی جاری تھی۔
اسرائیلی فوج کے بقول حماس اسنائپر کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والا اہلکار کھدائی کرنے والی مشین چلا رہا تھا۔ وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ مشین ایکسکیویٹر مشین آپریٹر کی موت کے بعد حماس جنگجوؤں نے دیگر اسرائیلی فوج کی بکتر بند پر آر پی جی راکٹوں سے حملہ کیا۔
اسرائیلی فوج کے بقول بکتر میں موجود اہلکار حماس کے حملے میں محفوظ رہے اور جائے واقعہ سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔
اسرائیلی فوج نے الزام عائد کیا کہ حماس کا ی تازہ حملہ غزہ جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اس واقعے کے فوری بعد اسرائیلی فضائیہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے رفح سمیت پورے غزہ میں حماس کے مانیٹرنگ سیل، اسلحہ سازی کے کارخانے، راکٹ لانچنگ سائٹس اور سرنگوں پر شدید بمباری کی۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ان حملوں میں حماس اور دیگر مسلح تنظیموں کے دو بٹالین کمانڈرز، دو نائب کمانڈرز اور 16 کمپنی کمانڈرز سمیت متعدد جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب غزہ کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا کہ ان فضائی حملوں میں 104 افراد شہید ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ حملوں کے بعد جنگ بندی ایک بار پھر بحال کر دی گئی کہ حماس کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد کیے گئے حملوں کے جواب میں کارروائی مکمل ہونے پر جنگ بندی کا نفاذ دوبارہ شروع کر دیا گیا۔
وزیرِاعظم نیتن یاہو نے بھی فوج کو طاقتور جوابی کارروائی کا حکم دیا بالخصوص اس لیے کہ حماس نے 13 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی۔
منگل کی شب حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے غزہ میں دو مزید یرغمالیوں کی لاشیں برآمد کی ہیں تاہم انھیں اسرائیل کے حوالے نہیں کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج حماس کے کیا کہ
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔