WE News:
2026-06-03@00:24:47 GMT

امبانی گروپ کی 85 کروڑ ڈالر مالیت کی جائیدادیں منجمد

اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT

امبانی گروپ کی 85 کروڑ ڈالر مالیت کی جائیدادیں منجمد

بھارت کی مالیاتی جرائم کی تحقیقات کرنے والی ایجنسی اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے انیل امبانی گروپ سے منسلک کمپنیوں کی 75 ارب بھارتی روپے (تقریباً 85 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر) مالیت کی جائیدادیں منجمد کر دی ہیں۔

یہ کارروائی منی لانڈرنگ (رقوم کی غیرقانونی منتقلی) سے متعلق ایک جاری تفتیش کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انیل امبانی کے قریبی ساتھی آشوک کمار پال کی گرفتاری کی وجہ کیا بنی؟

ای ڈی کے مطابق یہ اقدام ریلائنس کمیونیکیشنز لمیٹڈ اور اس کی ذیلی کمپنیوں کے خلاف جاری تحقیقات سے جڑا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ گروپ نے سنہ 2017 سے سنہ 2019 کے درمیان ’یس بینک‘ سے حاصل کردہ 569 ملین ڈالر سے زائد قرضوں اور 136 ارب روپے کی رقم کو مختلف ذرائع سے ہیر پھیر کر کے دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

عوامی فنڈز کی جعلی منتقلی کا انکشاف

ای ڈی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ریلائنس گروپ کی متعدد کمپنیوں بشمول ریلائنس ہوم فنانس لمیٹڈ اور ریلائنس کمرشل فنانس لمیٹڈ نے 100 ارب روپے سے زائد عوامی فنڈز کو شیل کمپنیوں کے ذریعے غیرقانونی طور پر منتقل کیا۔

مزید پڑھیے: نیتا امبانی کا ہیروں سے جڑا بیگ وائرل، قیمت ناقابل یقین

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ کمپنیاں قرضوں کی ایورگریننگ کے عمل میں ملوث تھیں یعنی نئے قرضے حاصل کرکے پرانے قرضوں کی ادائیگی کی جاتی تھی تاکہ مالی دباؤ عارضی طور پر کم دکھایا جا سکے۔

ای ڈی نے کہا کہ اس غیر قانونی سرگرمی میں قرضوں کی رقم کو متعلقہ پارٹیوں میں منتقل کرنا، دیگر کمپنیوں کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنا اور باہمی فنڈز میں سرمایہ کاری جیسے اقدامات شامل تھے جو قرضوں کے معاہدے کی شرائط کے خلاف تھے۔

بڑے شہروں میں جائیدادوں پر پابندی

ایجنسی نے مزید بتایا کہ اس نے ممبئی، دہلی اور چنئی میں واقع رہائشی یونٹس اور زمینوں پر کسی بھی قسم کی خرید و فروخت یا لین دین پر پابندی عائد کر دی ہے۔

مزید پڑھیں: مکیش امبانی یا شاہ رخ خان، امیر ترین بھارتی کون؟ نئی فہرست جاری

منجمد کی گئی جائیدادوں میں صنعت کار انیل امبانی کی ممبئی میں واقع خاندانی رہائش گاہ بھی شامل ہے۔

کمپنیوں کا مؤقف

ریلائنس انفراسٹرکچر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ای ڈی کی کارروائی سے اس کے آپریشنز، شیئر ہولڈرز یا ملازمین پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

گروپ کی دیگر کمپنیوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ یس بینک نے بھی کوئی ردعمل نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیے: امیر ترین افراد کی فہرست، مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑنے والی خاتون کون ہیں؟

ذرائع کے مطابق ای ڈی کی تفتیش میں یہ شبہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ریلائنس گروپ کی کمپنیوں نے قرضوں کے اجرا سے قبل یس بینک کے بعض اہلکاروں کو رشوتیں ادا کیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امبانی گروپ انیل امبانی گروپ اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بھارت ریلائنس کمیونیکیشنز لمیٹڈ یس بینک.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امبانی گروپ انیل امبانی گروپ بھارت امبانی گروپ انیل امبانی قرضوں کی گروپ کی

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب