امبانی گروپ کی 85 کروڑ ڈالر مالیت کی جائیدادیں منجمد
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
بھارت کی مالیاتی جرائم کی تحقیقات کرنے والی ایجنسی اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے انیل امبانی گروپ سے منسلک کمپنیوں کی 75 ارب بھارتی روپے (تقریباً 85 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر) مالیت کی جائیدادیں منجمد کر دی ہیں۔
یہ کارروائی منی لانڈرنگ (رقوم کی غیرقانونی منتقلی) سے متعلق ایک جاری تفتیش کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انیل امبانی کے قریبی ساتھی آشوک کمار پال کی گرفتاری کی وجہ کیا بنی؟
ای ڈی کے مطابق یہ اقدام ریلائنس کمیونیکیشنز لمیٹڈ اور اس کی ذیلی کمپنیوں کے خلاف جاری تحقیقات سے جڑا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ گروپ نے سنہ 2017 سے سنہ 2019 کے درمیان ’یس بینک‘ سے حاصل کردہ 569 ملین ڈالر سے زائد قرضوں اور 136 ارب روپے کی رقم کو مختلف ذرائع سے ہیر پھیر کر کے دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
عوامی فنڈز کی جعلی منتقلی کا انکشافای ڈی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ریلائنس گروپ کی متعدد کمپنیوں بشمول ریلائنس ہوم فنانس لمیٹڈ اور ریلائنس کمرشل فنانس لمیٹڈ نے 100 ارب روپے سے زائد عوامی فنڈز کو شیل کمپنیوں کے ذریعے غیرقانونی طور پر منتقل کیا۔
مزید پڑھیے: نیتا امبانی کا ہیروں سے جڑا بیگ وائرل، قیمت ناقابل یقین
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ کمپنیاں قرضوں کی ایورگریننگ کے عمل میں ملوث تھیں یعنی نئے قرضے حاصل کرکے پرانے قرضوں کی ادائیگی کی جاتی تھی تاکہ مالی دباؤ عارضی طور پر کم دکھایا جا سکے۔
ای ڈی نے کہا کہ اس غیر قانونی سرگرمی میں قرضوں کی رقم کو متعلقہ پارٹیوں میں منتقل کرنا، دیگر کمپنیوں کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنا اور باہمی فنڈز میں سرمایہ کاری جیسے اقدامات شامل تھے جو قرضوں کے معاہدے کی شرائط کے خلاف تھے۔
بڑے شہروں میں جائیدادوں پر پابندیایجنسی نے مزید بتایا کہ اس نے ممبئی، دہلی اور چنئی میں واقع رہائشی یونٹس اور زمینوں پر کسی بھی قسم کی خرید و فروخت یا لین دین پر پابندی عائد کر دی ہے۔
مزید پڑھیں: مکیش امبانی یا شاہ رخ خان، امیر ترین بھارتی کون؟ نئی فہرست جاری
منجمد کی گئی جائیدادوں میں صنعت کار انیل امبانی کی ممبئی میں واقع خاندانی رہائش گاہ بھی شامل ہے۔
کمپنیوں کا مؤقفریلائنس انفراسٹرکچر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ای ڈی کی کارروائی سے اس کے آپریشنز، شیئر ہولڈرز یا ملازمین پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
گروپ کی دیگر کمپنیوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ یس بینک نے بھی کوئی ردعمل نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیے: امیر ترین افراد کی فہرست، مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑنے والی خاتون کون ہیں؟
ذرائع کے مطابق ای ڈی کی تفتیش میں یہ شبہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ریلائنس گروپ کی کمپنیوں نے قرضوں کے اجرا سے قبل یس بینک کے بعض اہلکاروں کو رشوتیں ادا کیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امبانی گروپ انیل امبانی گروپ اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بھارت ریلائنس کمیونیکیشنز لمیٹڈ یس بینک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امبانی گروپ انیل امبانی گروپ بھارت امبانی گروپ انیل امبانی قرضوں کی گروپ کی
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔