میگا کرپشن؛ راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اسٹینوگرافر نے اربوں روپے کی خوردبرد کا اعتراف کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
راولپنڈی:
آر ڈی اے میگا کرپشن اسکینڈل میں راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اسٹینو گرافر جہانگیر احمد نے اقبال جرم کر لیا۔
ملزم نے عدالت میں بیان دیا کہ ڈھائی ارب روپے کرپشن میں میرا حصہ ایک کروڑ 35 لاکھ روپے تھا ۔ ادارے کے افسران نے 2 ارب 50 کروڑ کی کرپشن کی۔ ملزم کی جانب سے پلی بارگین کی درخواست منظور ہونے کے بعد پہلی 4.
کیس کے مرکزی ملزم خود کشی کرنے والے سابق ڈائریکٹر فنانس کا بھائی جیل منتقل کردیا گیا ہے جب کہ پلی بارگین کی درخواست منظوری کے بعد اسٹینو گرافر جہانگیر احمد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پلی بار گین کرنے والا ملزم سابق ڈسٹرکٹ ناظم راولپنڈی جاوید اخلاص کا داماد ہے۔
ملزم جہانگیر نے آر ڈی اے کے سرکاری اکاؤنٹ سے رقم اپنی اہلیہ صائمہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کی۔ پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم کی ملازمت اب خطرے میں ہے۔ نیب قانون کے تحت ملزم 10 سال کے لیے نااہل ہوتا ہے۔
احتساب عدالت راولپنڈی کے جج شیخ اعجاز علی نے کیس کا فیصلہ سنا دیا جب کہ پلی بارگین و رقم ادائیگی پر چیئرمین نیب نے بھی درخواست منظور کرلی۔ ملزم کی پلی بار گین درخواست کے بعد تمام ملزمان کے خلاف گھیرا تنگ کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آر ڈی اے کے تمام متعلقہ افسران کی گرفتاریوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گیا ہے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔